جمال خاشقجی کے قتل کے الزام میں 20 سعودی شہریوں کے خلاف مقدمے کی پہلی سماعت

جمال خاشقجی کے قتل کے الزام میں 20 سعودی شہریوں کے خلاف مقدمے کی پہلی سماعت

ترکی: مقتول صحافی جمال خاشقجی کی منگیتر خدیجے چنگیز نے عدالت میں کہا کہ ‘ان کے قتل کے ذمہ دار تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے

خدیجے چنگیز نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دو سابق ساتھیوں اور 18 دیگر سعودی شہریوں کی غیر موجودگی میں مقدمے کے آغاز کے موقع پر اپنا بیان درج کروایا۔
25 مارچ کو ترکی کے پراسیکیوٹر نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے دو قریبی ساتھیوں سمیت 20 افراد پر باقاعدہ فرد جرم عائد کردی تھی۔
قتل کی واردات کے بعد تمام 20 سعودی ملزمان ترکی سے روانہ ہوگئے جبکہ سعودی عرب نے ان کی حوالگی کے ترکی کے مطالبات کو مسترد کردیا تھا۔
2019 میں سعودی عرب کی ایک عدالت نے جمال خاشقجی کے قتل کے جرم میں 5 نامعلوم افراد کو سزائے موت سنادی تھی جبکہ ولی عہد محمد بن سلمان کے قریبی افراد پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا۔
ریاض میں پریس کانفرنس کے دوران پبلک پراسیکیوٹر نے سزاؤں کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ دیگر تین افراد کو مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
سعودی پراسیکیوٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ عدالت نے 11 افراد پر فرد جرم عائد کی تھی جس میں سے تین کو بری کردیا گیا۔
عدالت نے متاثرہ شخص کے قتل میں ملوث ہونے کے جرم میں 5 افراد کو سزائے موت کا حکم دیا تھا جبکہ قتل کو چھپانے اور قانون کی خلاف ورزی پر تین افراد کو مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
مقدمے کی تحقیقات میں 31 افراد کو شامل کیا گیا تھا جن میں سے 21 کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ 10 افراد کو صرف سوال جواب کے لیے طلب کیا گیا کیونکہ عدالت کے پاس انہیں حراست میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔
اس مقدمے میں سعودی شاہی عدالت کے سابق مشیر اور کنسلٹنٹ سعود القحطانی پر بھی الزام تھا کہ انہوں نے قتل کی مکمل منصوبہ بندی کی جس کی وجہ سے انہیں تفتیش کا سامنا کرنا پڑا لیکن الزام ثابت نہ ہونے پر انہیں بری کردیا گیا تھا۔
ان کے علاوہ عدالت نے ناکافی شواہد کی بنا پر سابق ڈپٹی انٹیلی جنس چیف احمد ال اسیری کو بھی بری کردیا تھا۔
سعودی شاہی خاندان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے اقدامات کے سخت ناقد سمجھے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی 2017 سے امریکا میں مقیم تھے۔
تاہم 2 اکتوبر 2018 کو اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہے جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن واپس نہیں آئے، بعد ازاں ان کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا ہے۔
امریکا کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کی جانب سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کا قتل طاقتور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حکم پر ہوا۔
دسمبر میں امریکی سینیٹ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار قرار دینے سے متعلق قرارداد منظور کی جس میں سعودی حکومت سے جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ داران کا احتساب کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
گزشتہ برس جنوری میں ریاض کی عدالت میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے مقدمے کی پہلی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے 11 میں سے 5 مبینہ قاتلوں کی سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔
تاہم اقوام متحدہ نے ٹرائل کو ‘ناکافی’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح ٹرائل کی شفافیت کا جائزہ نہیں لیا جاسکتا۔

یہ بھی پڑھیں

جاپان نے عوام کو کرونا ویکسین مفت دینے کا اعلان کر دیا ہے

جاپان نے عوام کو کرونا ویکسین مفت دینے کا اعلان کر دیا ہے

ٹوکیو:جاپان نے امریکی کمپنی موڈرنا، آسٹرازینیکا اور فائزر سے ویکسینز کا معاہدہ کیا ہے۔ واضح …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے