گلگت بلتستان میں عیسائیت کی کوئی تاریخ موجود ہے یا نہیں

گلگت بلتستان میں عیسائیت کی کوئی تاریخ موجود ہے یا نہیں

گلگت بلتستان: بلتستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد نعیم خان اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ سکردو سے دریا سندھ کے دوسرے پار دس، بارہ کلومیٹر دور موضع کواردو میں ایک ’صلیب نما‘ پتھر کی کھوج میں نکلتے ہیں

مقامی لوگوں کے مطابق یہ ’صلیب‘ کوئی نئی چیز نہیں ہے اور کئی دہائیوں سے یہاں رہنے والے بتاتے ہیں کہ صرف یہ پتھر ہی نہیں بلکہ اس علاقے میں کچھ عرصے پہلے تک کھنڈرات بھی موجود تھے تاہم ان کی باقیات لوگ اٹھا کر لے گئے اور جو بچا اس پر قدرت نے پردہ ڈال دیا۔
لیکن یہ مضبوط صلیب نما اب بھی اسی پہاڑی پر موجود ہے۔ چھ سے سات فٹ لمبا اور چوڑا اور قریباً چار ٹن وزنی یہ پتھر محسوس کرنے میں سنگِ مرمر معلوم ہوتا ہے اور اس کی شکل بھی کوئی اتفاق نہیں، ایسے لگتا ہے کہ اسے جان بوجھ کر کراس یا صلیب کی شکل میں تراشا گیا ہے۔
واجد بھٹی جنوبی ایشیا میں مسیحیت کے ماہر ہیں اور قائد اعظم یونیورسٹی سے منسلک رہے ہیں۔ ان کی رائے میں کواردو کی صلیب واقعی مسیحی نوادرات کا ایک نمونہ ہے۔
ان کے مطابق قائد اعظم یونیورسٹی کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ بلتستان کے علاقے میں کئی ایسی نقش و نگار والے پتھر موجود ہیں جن پر صلیب کے نشانات پائے گئے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال بلتستان کے علاقے دم سم سے ’نستورین (Nestorian) کراس‘ کی دریافت تھی۔
واجد بھٹی کا ماننا ہے کہ اس دریافت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس خطے میں عیسائیت کی تاریخ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں سے کسی زمانے میں شاہرہِ ریشم یا سلک روٹ گزرتا تھا اور اس خطے کے افغانستان، چین اور وسطی ایشیا کے ذریعے یورپ تک رابطے تھے۔
اس کے علاوہ ان کا دعویٰ ہے کہ رومی سلطنت کے ساتھ بھی اس خطے کے لوگوں کے تجارتی تعلقات تھے۔ ان کے مطابق جس شکل کی صلیب سکردو کے قریب ملی ہے، برصغیر میں زیادہ تر اسی شکل کی صلیبیں استعمال کی جاتی ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر جیسن نیلس کینیڈا کی ولفریڈ لایئر یونیورسٹی کے شعبہ مذہب اور ثقافت کے سربراہ ہیں اور انھوں نے گلگت بلتستان میں کئی سال تحقیق کرتے گزارے۔ ان کے خیال میں یہ صلیب ان مسیحی مبلغوں کی نشانی ہو سکتی ہے جنھوں نے 18ویں اور 19ویں صدی میں گلگت بلستان کا رخ کیا تھا۔
بلتستان کے پرائڈ آف پرفارمنس یافتہ تاریخ دان اور ماہر آثار قدیمہ محمد یوسف حسین اس رائے سے متفق نہیں ہیں۔ محمد یوسف حسین کو بھی نوادرات اکٹھی کرنے کا شوق ہے اور انھوں نے تقریباً پانچ ہزار قدیم اشیا پر مبنی اپنا ایک میوزیم بنایا ہوا ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ جس علاقے سے یہ صلیب نما ملا ہے اس کے بارے میں تاریخی شواہد ہیں کہ وہاں چار پانچ صدیوں قبل بلتستان کے حکمران علی شیر خان انچن اور ان کی ملکہ کے الگ الگ محل ہوا کرتے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ سنہ 2007 میں علاقے کے لوگ ان کے پاس آئے اور بتایا پہاڑ کے اوپر ماربل کی صلیب پڑی ہوئی ہے اور اگر میں چاہوں تو اس کو اپنے میوزیم میں رکھنے کے لیے لے جا سکتا ہوں تاہم ان کے مطابق جب انھوں کچھ تحقیق کی تو انھوں معلوم ہوا کہ اس وزنی پتھر کو وہاں سے ہٹانا بہت مشکل ہے۔
ان کے خیال میں یہ صلیب نہیں بلکہ تعمیراتی مقاصد کے لیے بنایا گیا کوئی ستون یا پتھر ہے۔
مقامی صحافی اور مصنف محمد قاسم نسیم بھی اس بات سے متفق ہیں۔
ان کے نزدیک گلگت بلستان کی تاریخ پر شائع ہونے والے غیر متنازعہ کتب میں کواردو کے اس پہاڑ کا ذکر ملتا ہے۔
محمد قاسم نسیم کے مطابق کوردو کے اس پہاڑ پر علی شیر انچن کا محل تھا جبکہ گل خاتون نے دریا کے کنارے اپنا محل تعمیر کروایا تھا جس کے لیے ماربل پر کام کرنے کے لیے سنگ تراش کشمیر اور دیگر علاقوں سے لائے گے تھے۔
ان کا کہنا تھا علی شیر انچن کے اس محل کے کچھ آثار اب بھی باقی ہیں جبکہ گل خاتون کے محل کے آثار چند سال پہلے تک موجود تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ کئی لوگوں نے انھیں کھنڈارت کی صورت میں دیکھا ہوا ہے اور وہ پتھر جسے صلیب کہا جا رہا ہے، یہ بھی یہاں کے لوگوں کے لیے اجنبی چیز نہیں ہے۔
موضع کواردو کے رہائشی پروفیسر حشمت علی کمال الہامی سکردو ڈگری کالج کے سابق پرنسپل ہیں اور آج کل بلتستان یونیورسٹی اور سکردو ڈگری کالج میں وزٹنگ پروفیسر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ بچپن میں جب وہ بھیڑ بکریاں لے کر اوپر پہاڑوں میں نکلتے تو اس وقت بھی ان سمیت کئی لوگوں نے یہ آثار دیکھے اور مقامی لوگوں کے خیال میں یہ سب بچا کچا تعمیراتی مواد تھا۔
پروفیسر حشمت علی کمال الہامی کے مطابق ان آثار میں ماربل کا یہ صلیب نما بھی موجود تھا۔ ’وقت کے ساتھ ساتھ بہت سی چیزیں وہاں سے غائب ہو گئیں، کچھ لوگ اٹھا کر لے گے، مگر یہ جس پتھر کو صلیب کہا جا رہا ہے اسے وہاں سے اٹھانا ممکن نہیں تھا، اسی لیے یہ کئی سالوں سے وہاں ہی پڑا رہا ہے۔
گلگت بلتستان میں مسیحیت کا تعارف 18ویں صدی میں ہوا تھا جب مسیحی مبلغ اس علاقے میں آئے اور چند برس یہاں رہنے کے بعد واپس چلے گئے۔
اس کے بعد سنہ 1915 میں بھی ایک مشن آیا تھا جو دوسری عالمی جنگ تک یہاں رہا۔ اس دوران کچھ لوگوں نے یہ مذہب قبول کیا مگر مشن کے جانے کے بعد معلوم نہیں کہ وہ لوگ کدھر گئے۔
محمد یوسف حسین مانتے ہیں کہ یہ دریافت تاریخی ہے اور ملنے والے پتھر کا تعلق کسی پرانی ثقافت سے ہے۔ لیکن اس کا پس منظر کیا ہے اور یہ کس دور سے تعلق رکھتا ہے، اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے اور سب سے بہترین طریقہ کاربن ڈیٹنگ ہے جس کے ذریعے ماہرین اس پتھر کی عمر کا تعین کر سکتے ہیں۔
صلیب نما کو نئے سرے سے دریافت کرنے والے بلتستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد نعیم خان اس پتھر کی متنازع تاریخ کے بارے میں کہتے ہیں: ’اگر یہ صلیب ہے تو پھر ہمارا خیال ہے کہ یہ کوئی 1800 یا 1900 سال پرانی ہے لیکن اگر یہ صلیب نہیں بھی ہے تو پھر بھی اس کی تاریخ چار، پانچ سو سال پرانی ہے۔‘ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس کا تعلق علی شیر خان انچن سے بھی ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

26نومبر سے 24دسمبر تک پاکستان کے تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کااعلان

26نومبر سے 24دسمبر تک پاکستان کے تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کااعلان

اسلام آباد: بین الصوبائی وزرائےتعلیم کااجلاس کے بعد وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور معاون …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے