کے الیکٹرک کی بجلی کے نرخ میں فی یونٹ 2.39 روپے اضافے کا فیصلہ

اسلام آباد: کراچی صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں اضافے کا سوال کافی پیچیدہ ہوگیا ہے اور پاور ڈویژن نے ای سی سی کے لیے دو حل تجویز کیے تھے

یہ معاملہ تقریبا چار سالوں سے کے ای کی گزشتہ ایڈجسٹمنٹ کے حل سے متعلق ہے جس میں اوسطا ہر یونٹ میں 4.88 روپے اضافے کی ضرورت ہے۔
ایک بار میں اچانک اس بڑے اضافے کے پیش نظر پاور ڈویژن نے فوری طور پر 2.39 روپے فی یونٹ اوسط اضافے کی تجویز پیش کی ہے تاکہ کے ای کو یکساں قومی نرخ کے برابر بنایا جائے جو فی الحال سابقہ واپڈا کی تمام تقسیم کار کمپنیوں کے لیے قابل اطلاق ہے۔
اس کا مطلب مختلف صارفین کے زمرے میں 1.09 روپے سے 2.90 روپے فی یونٹ اضافہ ہوگا۔
اس وقت کے ای ٹیرف قومی ٹیرف سے کم ہے اور تقریبا 18 ماہ سے ایسا جاری ہے۔
اس کے علاوہ پاور ڈویژن نے تجویز پیش کی ہے کہ تقریبا 2.59 روپے فی یونٹ کے باقی حصے کو نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو بھجوایا جائے تاکہ اس کو حصہ آہستہ آہستہ پریئر ایئر ایڈجسٹمنٹ (پی وائی اے) میکانزم کے تحت نمٹا کر بیس ٹیرف کا حصہ بنایا جائے۔
باخبر ذرائع کے مطابق کراچی کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی ایک بار میں ہی پورے بیک لاگ کے تصفیے کے لیے لابنگ کر رہی ہے جس میں تقریبا 71 ارب روپے کی سبسڈی شامل ہے جو کمپنی چاہتی ہے کہ وزارت خزانہ اس کا بوجھ اٹھائے۔
ملک بھر میں یکساں بیس ٹیرف کو یقینی بنانے کے لیے مالی سال 21-2020 کے بجٹ میں 25 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی ہے جو مالی سال کے ایسے ابتدائی مرحلے میں اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے وعدوں کی وجہ سے بڑھایا جاسکتا ہے۔
اس کے علاوہ کراچی میں بجلی کی فراہمی کی مروجہ صورتحال کو بھی ذہن میں رکھنا ہوگا کیونکہ بھاری لوڈشیڈنگ کے ساتھ ساتھ بڑے ٹیرف میں اضافے کے نتیجے میں سیاسی دباؤ بھی سامنے آسکتا ہے۔
ریگولیٹر نے دسمبر 2019 میں اوسط نرخوں میں فی یونٹ 4.88 روپے اضافے کی اجازت جولائی 2016 سے مارچ 2019 کے دوران کے ایڈجسٹمنٹ پر دی تھی تاہم حکومت اس کے حتمی فیصلے میں تاخیر کر رہی تھی۔
نیپرا کے مطابق حالیہ نظر ثانی جسم میں 4.88 روپے کا اضافہ ہوا اور ٹیرف 17.69 روپے پر پہنچ گیا سے قبل پہلے کے ای ٹیرف 12.82 روپے فی یونٹ تھا جس سے مجموعی طور پر 106 ارب روپے کا ریونیو متاثر ہوا۔
ایڈجسٹمنٹ جولائی 2016 سے مارچ 2019 کے درمیان سے متعلق تھا۔
ریگولیٹر نے 5 جولائی 2018 کو مالی سال 2017 سے مالی سال 2023 (سات سال) کے لیے کے ای ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائے ٹی) 2017 کی نظر ثانی کی درخواست کا فیصلہ کیا جس میں اوسط فروخت کی شرح 12.8172 روپے ہے فی یونٹ رکھی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

کراچی سرکلر ریلوے عوام کے ساتھ بھونڈا مذاق ہے

کراچی سرکلر ریلوے عوام کے ساتھ بھونڈا مذاق ہے

کراچی: حافظ نعیم الرحمن نے جماعت اسلامی کے مرکز ادارہ نورِ حق کراچی میں پریس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے