ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں سزایافتہ مجرم نے فیصلہ چیلنج کردیا

ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں سزایافتہ مجرم نے فیصلہ چیلنج کردیا

اسلام آباد: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 3 ملزمان معظم علی، کاشف کامران اور سید محسن علی عمران فاروق قتل کیس میں مجرم قرار دیا تھا اور تینوں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی

معظم علی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی۔
اپیل کے ذریعے معظم علی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پروسیکیوشن کے پاس ان کے جرم سے منسلک کرنے کے لیے ناکافی ثبوت ہونے کے باوجود اے ٹی سی کے جج نے انہیں سزا سنائی۔
18 جون کو اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے متحدہ قومی مومنٹ کے بانی رکن کے قتل کے جرم میں خالد شمیم، معظم علی اور محسن علی سید کو عمر قید کی سزا سنا دی تھی۔
عدالت نے تینوں ملزمان کو عمر قید کے ساتھ ساتھ تینوں پر مشترکہ طور پر 20 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھاجبکہ تینوں ملزمان کو متاثرہ گھرانے کو 10، 10 لاکھ روپے فی کس ادا کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا
اپنے فیصلے میں عدالت نے برطانوی اور پاکستانی حکومتوں کو مفرور ملزمان ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین، افتخار حسین، محمد انور اور کاشف کامران کی گرفتاری کا بھی حکم دیا تھا۔
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عمران فاروق قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین نے اپنی پارٹی کے سینئر رہنما کے قتل کا حکم دیا تھا۔
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 ستمبر 2010 کو لندن کے علاقے ایج ویئر کی گرین لین میں ان کے گھر کے باہر قتل کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

نوازشریف اور مریم نواز کے خلاف مقدمات بالکل واضح ہیں

نوازشریف اور مریم نواز کے خلاف مقدمات بالکل واضح ہیں

 اسلام آباد: نیب نے مریم نواز کو آج طلب کیا تھا تاہم مسلم لیگ (ن) …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے