شہر میں کوئی مویشی منڈی قائم نہیں کی جانی چاہیے

شہر میں کوئی مویشی منڈی قائم نہیں کی جانی چاہیے

کراچی: پی ایم اے ہاؤس میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کو غیر موثر قرار دیتے ہوئے ڈبلیو ایچ او کی سفارشات کے مطابق شہر میں مکمل لاک ڈاؤن کا مطالبہ کیا

ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا تھا کہ ’ہم عیدالاضحیٰ کے موقع پر ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کرنے کا مشورہ دیتے ہیں ورنہ حکومت کو رمضان کے بعد جس طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا اس طرح کی ایک اور مشکل وقت کے لیے تیار ہوجانا چاہیے، حکومت کو چاہیے کہ وہ شہر کے اندر قربانی کے جانوروں کے لیے مویشی منڈیوں کے انعقاد کی اجازت نہیں دے‘۔
ایم اے اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کی جانب سے دیگر مطالبات کی فہرست پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو ہسپتال انتظامیہ سے مشاورت سے نجی ہسپتالوں میں موجود تمام کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کا خرچہ برداشت کرنا چاہیے‘۔
’کوئی بھی میڈیسن یا صحت سے متعلقہ سامان کسی قابل طبی ماہر کے نسخے کے بغیر فروخت نہیں کیا جانا چاہیے، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اور متعلقہ صوبوں کے ہیلتھ کیئر کمیشنز کو کورونا وائرس کے انتظام سے متعلق اس وقت ملک میں پائے جانے والے خوف و ہراس اور الجھن کا ازالہ کرنا چاہیے‘۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ شہر بھر میں بجلی کی عدم فراہمی کے مسئلے کو دیکھیں اور اس وبائی صورتحال میں بجلی کی معمول کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔
کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک میں صورتحال مزید خراب ہوتی جارہی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اب تک 2 لاکھ 13 ہزار 470 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ 4 ہزار 395 افراد وائرس کی وجہ سے لقمہ اجل بن چکے ہیں، یہ صورتحال اس لیے پیش آئی ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لئے یکساں پالیسی نہیں ہے‘۔
وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک پیج پر نہیں تھیں جس کی وجہ سے وبائی امراض پر عام لوگوں میں الجھن پیدا ہوئی تھی۔
مزید وضاحت دیتے ہوئے ڈاکٹر عبد الغفور شورو نے کہا کہ وائرس اور ہسپتال کی ناکافی سہولیات کے بارے میں وضاحت کی کمی اور غلط فہمیوں کی وجہ سے معاشرے میں مایوسی اور خوف و ہراس پیدا ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’سوشل میڈیا غلط معلومات پھیلارہا ہے کہ مریضوں کو ہسپتالوں میں نہیں لے جانا چاہیے کیونکہ ڈاکٹر مریضوں کو کورونا وائرس سے متاثرہ اور اہلخانہ کو بھی کورونا وائرس سے متاثرہ قرار دے دیں گے‘۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’عام لوگ ادویات اور طبی سامان بھی جمع کر رہے ہیں جس کی وجہ سے مارکیٹ میں ان مصنوعات کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے‘۔ ’
اسمارٹ لاک ڈاؤن کے حوالے سے ڈاکٹر قاضی واثق نے دعوٰی کیا کہ دنیا میں اس حکمت عملی کا کوئی تصور نہیں ہے اور کسی نے بھی اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔
کورونا وائرس کیسز میں کمی ظاہر کرنے والے حکومتی اعداد و شمار کو چیلنج کیا اور کہا کہ اس کی وجہ کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ میں کمی ہونا ہے۔
ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ ’ہماری ٹیسٹنگ کی صلاحیت بہتر نہیں ہے، ہمارے پاس ہر صوبے میں یومیہ 25 ہزار ٹیسٹنگ کی صلاحیت ہونی چاہیے،لوگوں کے پاس نجی لیبز میں جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا ہے، حکومت لیبز اور ہسپتالوں کے مشورے سے ایک کورونا وائرس ٹیسٹ کی قیمت طے کرے اور ہسپتال چارجز برداشت کرے۔حکومت کو کسی بھی ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر دوائیں اور صحت سے متعلقہ سامان فروخت کرنے کی اجازت بھی نہیں دینی چاہیے‘۔
ہماری دوسری تشویش صحت سے متعلق پیشہ ور افراد کی فلاح و بہبود سے متعلق ہے جو کورونا وائرس سے مر رہے ہیں، ہم ان کے لیے شہدا پیکیج اور رسک الاؤنس کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں لیکن ابھی تک کچھ نہیں کیا جاسکا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں

پچھلے 20 سال میں کراچی میں کچھ نہیں کیا گیا

پچھلے 20 سال میں کراچی میں کچھ نہیں کیا گیا

کراچی: سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے