بجلی کی موجودہ قلت کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے ایک اور تحقیقاتی کمیٹی تشکیل

بجلی کی موجودہ قلت کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے ایک اور تحقیقاتی کمیٹی تشکیل

اسلام آباد: ڈیڑھ کروڑ کی آبادی والے ملک کے سب سے بڑے شہر میں بجلی کے شارٹ فال کا حل ڈھونڈے بغیر عوام کے سامنے ایک دوسرے پر تنقید کی گئی

کابینہ کے ایک رکن نے بتایا کہ کراچی میں کے الیکٹرک کی بجلی کی صورتحال کی خراب منصوبہ بندی اور انتظامات پر کابینہ کے اراکین کے درمیان گرم مباحثہ ہوا۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے کہا کہ کراچی کے لوگ ان کی گردن پر آگئے ہیں، ان کی پارٹی نے گزشتہ برسوں میں جو بھی خیر سگالی حاصل کی ہے یہ اس کو سنجیدگی سے متاثر کرتی ہے اور اس مسئلے کو حل کرنے سے پہلے اس اجلاس کو ختم نہیں ہونا چاہیے۔
الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے بجلی اور پیٹرولیم ڈویژنز اور مالی امور کو اس کے صارفین کی توقعات پر پورا اترنے کی صلاحیت کی راہ میں رکاوٹ بتایا۔
ایک سرکاری بیان میں ان کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کے الیکٹرک کے سسٹم کو اچانک بجلی کی قلت کا سامنا کرنا پڑا جو گزشتہ ہفتے کے اوائل میں 600 میگاواٹ تھا اور ایک روز قبل 150 میگاواٹ تک تھا اور اس قلت کو دور کرنے کے لیے کمپنی کی جانب سے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
کچھ شرکا نے کے الیکٹرک کے حصے میں طلب کی تشخیص نہ کرنے اور پھر پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے ایندھن کے ناکافی انتظامات کا مشاہدہ کیا گیا۔
بجلی اور پیٹرولیم ڈویژن کے سربراہ، وزیر توانائی عمر ایوب خان نے زور دیا کہ دیگر بڑے شہروں کے شہریوں کا حصہ کم کرکے کے الیکٹرک کے لئے فیول کوٹہ بڑھایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاور ڈویژن نے قومی گرڈ سے 500 میگاواٹ اضافی بجلی کی پیش کش کی ہے جس سے ملک کے دوسرے حصوں کے صارفین کو نقصان اٹھانا پڑسکتا جنہیں اب لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے اور اس سے زیادہ ان کی وزارت کچھ نہیں کرسکتی۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ وزارت توانائی کراچی کے لوگوں کے دکھوں کو کم کرنے کے لیے اپنی حدود سے آگے بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چند لوگ عوام کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور دیگر ایک دوسرے پر ذمہ داریاں ڈالتے رہتے ہیں لیکن وزارت توانائی نے اس سے جو بھی مطالبہ کیا گیا وہ پورا کیا تھا چاہے وہ ان کے فرائض سے بالاتر ہی کیوں نہ ہو۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو نے اطلاعات کے مطابق اس بات پر اتفاق کیا کہ حکومت نے کچھ اقدامات تو اٹھائے ہیں مگر انہوں نے ایندھن کی فراہمی پر زور دیا اور کہا کہ فرنس آئل اور گیس دونوں کے الیکٹرک کی توقعات سے کافی حد تک کم ہیں۔
اجلاس میں شریک رکن نےبتایا کہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کے الیکٹرک اپنی قیمت پر زیادہ سے زیادہ ایل این جی لینے سے گریزاں ہے اور اس کے بجائے مقامی گیس کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ اسے مستقبل کے پلانٹس کی نظیر نہ بنایا جاسکے۔
مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے نشاندہی کی کہ طویل اور صحتمند بات چیت کے باوجود ہم موجودہ بحران کی وجوہات کی شناخت نہیں کر سکے ہیں کیونکہ کوئی بھی ذمہ داری قبول نہیں کررہا ہے۔
اسد عمر نے اتفاق کیا کہ کوئی اسٹیک ہولڈر ذمہ داری قبول نہیں کررہا ہے اور یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے اور ایسے ماحول میں لوگوں کے دکھوں کا حل نہیں مل سکا ہے۔
انہوں نے پیٹرولیم اور بجلی ڈویژنز اور کے الیکٹرک کو ہدایت کی کہ وہ وزارت قانون اور انصاف کے تعاون سے ذمہ داریوں کی نشاندہی اور شناخت اور تعریف کے ماضی اور مستقبل میں مطلوب ہر عمل کے ساتھ دو ہفتوں کے اندر پیش ہوں تاکہ کوئی اسٹیک ہولڈر متعلقہ ذمہ داری سے دور نہ رہ سکے۔

یہ بھی پڑھیں

جب تک سیاستدان جمہوریت نہیں لاتے جمہوریت کیسےآسکتی ہے

جب تک سیاستدان جمہوریت نہیں لاتے جمہوریت کیسےآسکتی ہے

اسلام آباد: وفاقی وزیربرائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے