پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کی عمارت پر حملے کی کوشش

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کی عمارت پر حملے کی کوشش

کراچی: کالعدم شدت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی سے منسلک ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ مجید بریگیڈ کے ارکان نے اس کارروائی میں حصہ لیا

یہ واقعہ صبح دس بجے کے قریب پیش آیا اور ابتدائی معلومات کے مطابق حملہ آور پارکنگ کے راستے عمارت کے احاطے میں داخل ہوئے اور انھوں نے دستی بم پھینک کر رسائی حاصل کی۔
کراچی پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی جانب سے فائرنگ اور دستی بم کے حملے میں داخلی دروازے پر ڈیوٹی پر موجود کراچی پولیس کا ایک سب انسپکٹر، سٹاک ایکسچینج کے چار محافظ اور ایک عام شہری ہلاک ہوا ہے۔
پولیس اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں چاروں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں تین پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے بتایا کہ سکیورٹی گارڈز سمیت تین زخمی افراد کو سول ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کے پاس موجود جدید اسلحہ، دستی بم اور دیگر اشیا کو بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔
پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری اس واقعے کے بعد عمارت کے باہر موجود ہے اور کراچی پولیس کے ترجمان کے مطابق علاقے کو کلیئر کرنے کے لیے پاکستان سٹاک ایکسچینج کی عمارت اور اطراف میں تلاشی کا عمل جاری ہے۔
سندھ کے ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن نےبتایا کہ حملہ آور ایک سِلور رنگ کی کرولا گاڑی میں آئے اور انھیں پولیس کی جانب سے باہر گیٹ پر روکا گیا جہاں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ دو حملہ آور گیٹ کے باہر مارے گئے جبکہ دو اندر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تاہم انھیں بھی مار دیا گیا ہے۔
غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ حملہ آور مرکزی عمارت میں داخل نہیں ہوسکے اور ان سے دستی بم، دھماکہ خیز مواد اور دیگر اسلحہ برآمد ہوئے۔
سٹاک ایکسچینج کے ایم ڈی فرخ خان نے بھیتایا کہ حملہ آور عمارت کے اندر داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہوئے اور سٹاک ایکسچینج کے احاطے میں ہی داخل ہو پائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹریڈنگ فلور پر کاروباری سرگرمیاں متاثر نہیں ہوئی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی مکمل تفصیلی انکوائری رپورٹ طلب کی ہے۔
کراچی سٹاک ایکسچینج کا دفتر کراچی کے ‘وال سٹریٹ’ آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع ہے اور اس کے ساتھ سٹیٹ بینک پاکستان، پولیس ہیڈ کوارٹر اور کئی دیگر بینکس اور میڈیا ہاؤسز کے دفاتر ہیں۔ سندھ رینجرز کا مرکزی دفتر بھی ڈھائی کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس عمارت میں روزانہ کئی سو افراد کاروبار اور روزگار کے سلسلے میں آتے ہیں۔ اس وقت یہ معلوم نہیں کہ عمارت میں موجود افراد کو نکالا جا سکا ہے یا نہیں۔
بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے ماضی میں جن حملوں کی ذمہ داری قبول کی جاتی رہی ہے، ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں:
مئی 2020: فوجی اہلکاروں پر خودکش حملہ، چھ اہلکار ہلاک، ایک زخمی (کیچ، بلوچستان)
مئی 2020: فرنٹیئر کور کی گاڑی پر حملہ، چھ اہلکار ہلاک، چار زخمی (مچھ، ضلع کیچ، بلوچستان)
مئی 2020: سیکیورٹی فورسز پر حملے میں فرنٹیئر کور کا ایک اہلکار ہلاک (مند، ضلع کیچ، بلوچستان)
مئی 2019: پرل کانٹیننٹل ہوٹل پر حملہ، تین حملہ آوروں سمیت آٹھ افراد ہلاک (گوادر، بلوچستان)
نومبر 2018: چینی قونصل خانے پر حملہ، سات افراد ہلاک (کراچی، سندھ)
اگست 2018: سیندک منصوبے کے کارکنان کی بس پر حملہ، تین چینی انجینیئرز سمیت پانچ زخمی (دالبندین، بلوچستان)

یہ بھی پڑھیں

لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ علاقوں میں فنی خرابی اور لوڈ مینجمنٹ کے نام پر لوڈ شیڈنگ شروع

لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ علاقوں میں فنی خرابی اور لوڈ مینجمنٹ کے نام پر لوڈ شیڈنگ شروع

کراچی: کراچی کے مختلف علاقوں میں بدترین لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، کے الیکٹرک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے