اکیس سالہ نوجوان لڑکی کے ساتھ سگی ماں نے ایسی حرکت کردی کہ سچ سامنے آنے پر دنیا میں ہنگامہ ہوگیا

نیویارک: دولت کی ہوس بعض اوقات انسان کو اس قدر اندھا کردیتی ہے کہ وہ خود کو انسانیت کے مرتبے سے ہی گرالیتا ہے۔ اپنی ننھی بیٹی کو کینسر کی مریضہ ظاہرکرکے پورے شہر سے رقم بٹورنے والی امریکی خاتون بھی ایسی ہی مثال ہے، جس نے نہ صرف دوسروں کو بدترین دھوکہ دیا بلکہ اپنی بیٹی کی زندگی بھی برباد کردی۔
میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق ہینا مل برانٹ نامی 21 سالہ لڑکی نے پہلی بار اپنی زندگی کی انتہائی دلخراش کہانی دنیا کے سامنے بیان کی ہے۔ ہیناکا کہنا ہے کہ وہ محض سات سال کی تھیں جب ان کی والدہ نے انہیں بتایا کہ وہ بلڈ کینسر کی شکار ہیں اور جلد ہی دنیا سے رخصت ہونے والی ہیں۔ ٹریسا مل برانٹ نامی لالچی خاتون نے ایک شیطانی منصوبہ بنایا تھا، جسے عملی جامہ پہنانے کے لئے ننھی بچی کے سر کے بال مونڈ دئیے اور اسے ہر روز نشہ آور ادویات کھلانے لگی تاکہ وہ ہمہ وقت مدہوش نظر آئے۔ اس نے اپنی کمسن بیٹی کے سر کو پٹیوں میں لپیٹ دیا اور اردگرد کے لوگوں میں یہ بات مشہور کردی کہ اس کی بیٹی کینسر کے مرض میں مبتلا ہے۔

 

اوہایو شہر کے لوگ ٹریسا کی دردناک کہانی سے بہت متاثر ہوئے اور اس کی بیٹی کے علاج کے لئے عطیات اکٹھا کرنے شروع کردئیے گئے۔ درجنوں افراد اور کاروباری اداروں نے اسے عطیات دئیے اور کچھ ہی عرصے میں اس نے 31 ہزار ڈالر (تقریباً 31لاکھ پاکستانی روپے) اکٹھے کرلئے۔ یہاں تک کہ ایک نوعمر معذور لڑکی نے اپنے علاج کے لئے جمع کی گئی رقم بھی ٹریسا کو بیٹی کے علاج کے لئے بطور عطیہ دے دی۔

جب کچھ ماہ بعد ہینا کے سکول میں ایک استاد کو کچھ شکوک وشبہات گزرے تو انہوں نے معاملے کی جانچ کروائی۔ تب یہ افسوسناک انکشاف پہلی بار سامنے آیا کہ بچی کو کوئی بھی بیماری لاحق نہیں تھی۔ حقیقت سامنے آئی تو لوگ یہ جان کر دنگ رہ گئے کہ ٹریسا نے رقم کے لالچ میں اپنی ننھی بیٹی کو کینسر کی مریضہ بنا رکھا تھا اور لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے مسلسل نو ماہ سے اسے نشہ آور ادویات کھلا رہی تھی۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک، بلکہ سفاکانہ بات یہ تھی کہ وہ اپنی بیٹی کو مسلسل یہ بتاتی رہتی تھی کہ وہ مرنے والی تھی۔

حقیقت سامنے آنے پر ٹریسا اور اس کے شوہر کو گرفتار کرلیا گیا۔ ان کے خلاف مقدمہ چلایا گیا اور ٹریساکو ساڑھے چھ سال جبکہ اس کے خاوند کو چار سال 11 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ ہینا کا کہنا ہے کہ اس کے بچپن میں پیش آنے والے اس اندوہناک واقعے نے ان کی زندگی پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے اپنا بچپن شدید ڈپریشن کی حالت میں گزارا اور نوجوان ہونے پر بھی اپنے نفسیاتی مسائل سے پوری طرح نجات حاصل نہیں کرپائی ہیں۔ ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ اکثر ان کے دل میں خودکشی کا خیال بھی آتا ہے لیکن وہ زندہ رہنے اور حالات کا مقابلہ کرنے کی تگ و دو کررہی ہیں۔ انہوں نے اپنی والدہ کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ”میری ماں اب میری زندگی کا حصہ نہیں ہے اور میں اس بات پر شکر گزار ہوں، کیونکہ وہ ایک انتہائی زہر آلود انسان ہیں، مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے اب بھی خوف محسوس ہوتا ہے کہ وہ میرے اردگردمنڈلارہی ہیں۔ انہوں نے میری زندگی برباد کردی ہے۔“

یہ بھی پڑھیں

جرمنی کی, حکومت ایران کے, ساتھ بحران میں ثالثی, کا کردار, ادا کرنا, چاہتی ہے

جرمنی کی حکومت ایران کے ساتھ بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتی ہے

برلن: جرمنی کی حکومت ایران کے ساتھ بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے