کے الیکٹرک کے ستم شہر قائد بنا اندھیر نگری

کبھی روشنیوں کا شہر کہلانے والا کراچی "کے الیکٹرک” کی بدولت اندھیروں میں ڈوبا پڑا ہے۔

کراچی کو اندھیروں میں ڈبو دینے والے "کے الیکٹرک” سے حساب حکمران لیں گے یا عوام کو میدان میں آنا پڑے گا؟

تحریر۔نازیہ علی ۔ پاکستان کی بیٹی

کورونا اور لاک ڈاؤن کے سبب معاشی تنگی سے گزرنے والے شہر قائد کے مظلوم شہری ایک بار پھر ہمیشہ کی طرح شدید گرمی میں "کراچی الیکٹرک”( کے الیکٹرک) کے ستم کے شکار ہیں۔

کراچی کے شہریوں کو اپنے ساتھ ہوئی نا انصافیوں کے خلاف سڑکوں پر آنا پڑے گا اس غیر منصفانہ نظام کے خلاف آواز اٹھانی ہو گی۔

کبھی روشنیوں کا شہر کہلانے والا کراچی "کے الیکٹرک” کی بدولت اندھیروں میں ڈوبا پڑا ہے۔

ایک تو شہر کراچی میں "کے الیکٹرک” کی طرف سے جاری لوڈ شیڈنگ اور لوڈ مینجمنٹ کے نام پر اضافی بندش جاری ہے اسی کے ہمراہ کراچی کے شہریوں پر اوور بلنگ (اضافی چارجز) کا ظلم کیا جارہا ہے.سوئی سدرن کے ترجمان کے مطابق "کے الیکٹرک” کو 190 ایم ایم سی ایف ڈی سے بڑھا کہ 240 ایم ایم سی ایف ڈی دی جارہی ہے۔فرنس آئل کے بحران اور گرمی کی شدت کی وجہ سے 50 ایم ایم سی ایف ڈی گیس "کے الیکٹرک” کو زیادہ دی جا رہی ہے۔

سوئی سدرن نے اس بات کو صاف لفظوں میں کلیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ "کے الیکٹرک” کو بغیر کسی رکاوٹ اور فل پریشر پر بڑھا کر ایم ایم سی ایف ڈی دی جا رہی ہے۔واضع رہے کہ "کے الیکٹرک” گیس کی کمی اور بجلی کی چوری کا بہانہ بنا کر شہر کراچی میں اس وقت بدترین لوڈ شیڈنگ کر رہی ہے جبکہ بعض علاقوں میں کئی کئی گھنٹوں کیلئے تکنیکی خرابی کے نام پر بجلی کی فراہمی معطل کی جا رہی ہے شدید گرمی میں بجلی کے بحران سے کراچی میں پانی کا بحران میں خوفناک حد تک جنم لے رہا ہے۔کراچی میں بیشتر علاقوں میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بے رحمی کے ساتھ جاری ہے۔

کئی جگہ نت نئے بہانے بنا کر "کے الیکٹرک” رات رات بھر بجلی بند کر رہا ہے۔

کراچی میں شدید گرمی میں لوڈ شیڈنگ کے سبب شہریوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔38 سے 40 درجہ حرارت ہونے کے باوجود 9 سے 11 گھنٹے تک بجلی معطل رہتی ہے جبکہ "کے الیکٹرک” کی جانب سے شہریوں کو ایک پیغام بھیج دیا جاتا یے کہ آپکے علاقے کی بجلی فرنس آئل کی کمی یا مینٹیننس کی وجہ سے بند رہے گی۔

کراچی کے شہری رات دن اس عذاب سے گزر رہے ہیں اور لوڈ شیڈنگ سے بچے، خواتین ،بزرگ اور بیمار سب پریشان ہیں۔شہری کورونا اور لاک ڈاؤن کے باعث معاشی تنگی کا شکار ہیں روزگار بند ہو چکے ہیں اور اس پر اوور بلنگ کا ستم بھی نہایت بے شرمی سے جاری ہےعوام کا کہنا ہے کہ وہ لوگ وہی بجلی استعمال کر رہے ہیں جو کیا کرتے تھے بلکہ اے سی ہونے کے باوجود چلانا چھوڑ دیا ہے مگر لوڈ شیڈنگ کے باوجود بجلی کا بل ڈبل آرہا ہے۔”کے الیکٹرک” نے کراچی کو اندھیروں میں ڈبو دیا ہے اسکی مثال یہ ہے کہ گزشتہ روز سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران صوبائی وزیر زراعت اسمٰعیل راہو کی تقریر کے دوران ایوان میں بجلی منقطع ہونے کے بعد ایوان میں مکمل طور پر تاریکی چھاگئی۔

نیپرا کی جانب سے غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ، زائد بلنگ پر ‘کے الیکٹرک’ کو نوٹس تو سنا مگر ایسے نہ جانے کتنے نوٹس اور کتنی باتیں ماضی میں ہوئی ہیں مگر صحیح بات تو یہ ہے کہ "کے الیکٹرک” جیسا ادارہ کراچی میں ایک مافیا کی طرح لوگوں کی زندگی چھینتا رہا اور اسکو سزا نہیں ہوئی نہ جانے کتنے ہیٹ اسٹروک آئے نہ جانے کتنی بارشیں جس میں بے گناہ اور معصوم عوام "کراچی الیکٹرک” کے ستم کا شکار ہوئی مگر سنوائی آج تک نہیں ہوئی۔”کے الیکٹرک” کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں بجلی کی بندش کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا گیا کہ شدید گرم اور مرطوب موسم کی وجہ سے بجلی کی طلب 3 ہزار 450 میگاواٹ سے تجاوز کرچکی ہے۔

ایک پڑھا لکھا شہری اب سب سمجھتا ہے کہ "کے الیکٹرک” کس طرح یہ تمام باتیں کر کے منافع کے لالچ میں انسانی زندگیاں نگلتی آرہی ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ سال کراچی میں مون سون بارشوں نے تباہی مچادی تھی اور دو ہفتے میں تقریبا 33 کے قریب افراد کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوئے تھے ، جس میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، جب کہ کرنٹ لگنے سے کئی علاقوں میں قربانی کے جانور بھی ہلاک ہوئے، جس کے بعد "کے الیکٹرک” کیخلاف رجسٹرڈ ہونے والے کیسز کی تعداد 7 تک پہنچ گئی تھی مگر سنوائی اسکی بھی نہیں ہوئی "کے الیکٹرک” کی لاپروائی اور غیر ذمہ دارانہ عمل نے نہ جانے کتنی ماؤں سے انکے لخت جگر چھین لیئے کتنے معصوم بچوں سے انکے ماں ،باپ کا سایہ چھین لیا۔2015 کے ہیٹ اسٹروک میں بھی کراچی کی عوام شدید گرمی کے باعث اٹھاتی تھی کیونکہ بجلی نہ ہونے کے باعث لوگ ہیٹ اسٹروک کا جلدی شکار ہو جاتے تھے۔

ستم صرف موت پر ختم نہیں ہوتا تھا بلکہ گرمی میں زیادہ لوڈ شیڈنگ کے باعث جنازہ گھر میں رکھنا ناممکن ہوتا تھا جس کے باعث کراچی کے شہری سرد خانوں میں اپنے پیاروں کی لاشیں رکھواتے تھے۔”کے الیکٹرک” کو کب ،کیسے اور کسطرح کراچی کے شہروں پر مسلط کیا گیا اسکی داستان بھی کبھی پیش کروں گی مگر صرف اتنا کہوں گی کہ اب کراچی کے شہریوں کو اپنے ساتھ ہوئی نا انصافیوں کے خلاف سڑکوں پر آنا پڑے گا اس غیر منصفانہ نظام کے خلاف آواز اٹھانی ہو گی جہاں کورونا اور لاک ڈاؤن میں پھنسی عوام کیلئے جب وزیر اعلی’ سندھ کی جانب سے صارفین سے بجلی کے بل نہ لینے کا اعلان کیا گیا تو کراچی کو بجلی کی تقسیم کار کمپنی "کے الیکٹرک” نے وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت کے باوجود بجلی کے بل نہ لینے سے انکار کردیا۔

"کے الیکٹرک” نے صارفین کے بل کی 10 ماہ کی اقساط کرنے سے بھی انکار کردیا ہے۔آخر اس ادارے کی جانب سے یہ ظلم و ستم عوام پر کب تک جاری رہیں گے.اسمارٹ لاک ڈاؤن میں محدود وقت پر کاروبار کھولنے والی کراچی کی بے بس عوام لوڈشیڈنگ کے باعث کیسے اپنا روزگار چلائیں گے۔ایک طرف شہری حالات کے ہاتھوں مجبور فاقہ کشی پر مجبور ہیں دوسری جانب ان سے دو روٹی کمانے کا آسرا بھی چھینا جا رہا ہے۔بھوک اور افلاس سے جنگ لڑتی عوام بے جا اضافی بل کی ادائیگی کیلئے کہیں قرضہ لیتی دکھائی دیتی ہے تو کہیں حالات سے مجبور ہر کو خودکشی کرتی ہوئی مگر ملک کے حکمران اے سی کے محلوں میں سے جھانکنے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کر رہے۔

روشنیوں کے شہر کراچی کو اندھیروں میں ڈبو دینے والے "کے الیکٹرک” سے حساب اب حکمران لیں گے یا عوام کو انصاف کیلئے میدان میں آنا پڑے گا؟

اب سب کو مل کر کراچی کے حقوق کیلئے اعلی’ حکام سے بات کرنی ہو گی صرف کراچی کے نام پر اپنی سیاسی دکانیں چمکانے کا وقت گیا اگر کوئی سچ مچ کراچی کے شہریوں کا درد رکھتا ہے تو میدان میں آئے اور کراچی کے مسائل کو حل کرے پھر سے مون سون کا موسم آنے کو ہے گٹر اور نالے صاف نہیں ہوئے پھر کراچی کے شہری کرنٹ لگنے سے جنازے اٹھاتے رہیں اب یہ ستم نہیں دہرایا جانا چاہئیے میں وزیر اعظم پاکستان سمیت تمام اعلی’ حکام اور ذمہ دار اداروں سے اپیل کرتی ہوں کہ کراچی کی عوام کو انصاف دلایا جائے اور شہر قائد کو اندھیر نگری بنانے والوں سے حساب لیا جائے۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

یہ بھی پڑھیں

لمبی اور بور دوپہروں میں ہمارے ایک کلاس فیلو نے کُفر ڈھونڈ لیا

لمبی اور بور دوپہروں میں ہمارے ایک کلاس فیلو نے کُفر ڈھونڈ لیا

ایک کونے میں جا کر شلوار کی جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک پمفلٹ نکالا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے