پی آئی اے کے 150 پائلٹوں کے لائسنس جعلی ہیں

پی آئی اے کے 150 پائلٹوں کے لائسنس جعلی ہیں

راولپنڈی: پائلٹس کو گراؤنڈ کرنے کا فیصلہ کیا اور مبینہ طور پر ‘مشکوک لائسنس’ رکھنے کے الزام میں انہیں فلائٹ روسٹرز سے فارغ کرنا شروع کردیا ہے جبکہ سی اے اے کو پی آئی اے کے ان تمام پائلٹس کی فہرست فوری طور پر فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا

قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کے قومی ایئرلائن کے 150 پائلٹوں کے جعلی لائسنس رکھنے کے اعلان کے بعد اس تنازع نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کی۔
پی آئی اے انتظامیہ نے ان پائلٹس کی فہرست سرکاری طور پر سی اے اے سے ابھی موصول نہیں کی اور ایسے پائلٹس کو پروازوں کو چلانے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پائلٹس کو ہڑتال پر جانے کے لیے زور دینے کے الزام میں اس سے قبل پاکستان ایئر لائنز پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) کے جنرل سیکریٹری کو شوکاز نوٹس بھیجا گیا تھا۔
پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ نے بتایا کہ پہلے ہی اعلان کیا گیا تھا کہ تقریبا 150 پائلٹس کو گراؤنڈ کیا جائے گا
انہوں نے کہا کہ پائلٹس کی تعداد اور پی آئی اے کے فلائٹ آپریشنز پر اس کے منفی اثرات کے باوجود ان سب کو غیر معینہ مدت تک کے لیے گراؤنڈ کیا جائے گا جب تک ان کے خلاف انکوائری کے نتائج سامنے نہیں آجاتے جو حکومت پاکستان نے تشکیل دی ہے۔
پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایئر مارشل ارشد ملک نے جمعرات کے روز سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل اور ایوی ایشن ڈویژن کے سیکریٹری کو ایک خط لکھا جس میں کہا گیا کہ جعلی / مشکوک لائسنس رکھنے والے تمام پی آئی اے پائلٹس کی فہرست فوری طور پر فراہم کی جائے۔
ایئر مارشل ارشد ملک نے کہا کہ جعلی یا مشکوک لائسنس رکھنے والے کمرشل پائلٹس کی فہرست کی فراہمی سے انتظامیہ قواعد و ضوابط کے تحت فوری کارروائی کی ہدایت جاری کرنے کے قابل ہوگی۔
پالپا کے جنرل سیکریٹری عمران کے ناریجو کو جاری کردہ شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ‘آپ سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اس نوٹس کے موصول ہونے کے سات دن کے اندر ہی وجہ ظاہر کریں کہ کیوں آپ کے خلاف کمپنی کے قواعد کے مطابق تادیبی کارروائی نہیں کی جانی چاہیے‘۔
پالپا کے جنرل سیکریٹری کو ہدایت کی گئی کہ وہ 30 جون تک شوکاز نوٹس پر جواب جمع کرائیں۔
دوسری جانب جعلی ڈگریوں پر پی آئی اے میں بھرتیوں کے خلاف کی جارہی کارروائیوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے پالپا نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ کے عہدوں پر بھی اسی معیار کا اطلاق کیا جانا چاہیے جس کے تحت جعلی یا غیر متعلقہ ڈگریوں کے ساتھ افسران بھرتی کیے گئے تھے جن کو کمرشل ایوی ایشن کا تجربہ نہیں ہے۔
پالپا کے ترجمان نے کہا کہ ایسوسی ایشن نے پورے ادارے میں کارروائیوں کا مطالبہ کیا ہے اور ان تمام افراد کے خلاف جانچ پڑتال ہونی چاہیے جو اہم انتظامی عہدوں پر غیر منصفانہ ذرائع سے بھرتی کیے گئے تھے۔
جعلی ڈگریوں اور فلائنگ لائسنس کے لیے پائلٹس کے خلاف مہم دراصل ان افراد کو نشانہ بنانے کے لیے شروع کی گئی ہے جو موجودہ انتظامیہ سے اتفاق رائے نہیں رکھتے جس کے زیادہ تر لوگ کمرشل ایوی ایشن سے متعلقہ تجربہ نہیں رکھتے۔
اس کے علاوہ حالیہ شوکاز نوٹسز نہ صرف اننتقام لینے کے لیے تھے بلکہ بے بنیاد بھی تھے، ایک پائلٹ کو فیس بک پر تبصرہ کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ غیر پیشہ ورانہ اور نشانہ بنانے کا رویہ موجودہ انتظامیہ کی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے جو خوف کا ماحول پیدا کرنے پر تلی ہوئی ہے، اس طرز عمل کو اکثر بین الاقوامی ایوی ایشن کی صنعت کاک پٹ کے عملے کو چلانے کے لیے ذہنی طور پر تھکانے کی وجہ بتائی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

وزیراعظم عمران خان نے ناحقئی سرنگ، شیخ زید روڈ کا افتتاح کردیا

وزیراعظم عمران خان نے ناحقئی سرنگ، شیخ زید روڈ کا افتتاح کردیا

مہمند: مہمند میں یہ منصوبے یواےای کے تعاون سے عوام کے لیے تحفہ ہیں اس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے