اسرائیل سے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں کو ضم کرنے کا منصوبہ ترک کرنے کا مطالبہ

اسرائیل سے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں کو ضم کرنے کا منصوبہ ترک کرنے کا مطالبہ

اقوام متحدہ: یہ مطالبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ویڈیو کانفرنس کے دوران کیا گیا جس میں متعدد حکومتی وزرا نے شرکت کی تھی

یہ آخری بین الاقوامی ملاقات تھی جس کے بعد اسرائیل یکم جولائی کو اپنے منصوبے پر عمل درآمد کردے گا
اس کے علاوہ 25 ممالک کے ایک ہزار سے زائد یورپی قانون سازوں نے بھی اپنے حکمرانوں کو مداخلت کرنے اور اسرائیلی منصوبہ روکنے کا کہا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی کانفرنس کے دوران کہا کہ ’میں اسرائیلی حکومت سے اپنے انضمام کے منصوبے ترک کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں‘۔
عرب لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابوالغیط نے کہا کہ انضمام سے ’مستقبل میں امن کے امکانات ختم ہوجائیں گے‘
انہوں نے کہا کہ ’اسرائیلی حکومت کے مقبوضہ فلسطینی علاقے کے حصے کو ضم کرنے کے ممکنہ اقدام پر اگر عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے‘۔
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل کے آزاد فلسطین کے علاقوں تک توسیع اور اس کے اسرائیلی ریاست میں انضمام کے منصوبے پر یکم جولائی سے کابینہ میں بحث شروع ہوگی۔
یورپی یونین اسرائیل کو اپنے منصوبے سے پیچھے ہٹانے پر راضی کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اگر اسرائیلی وزیراعظم آگے بڑھے تو اس کے جواب میں انتقامی اقدامات پر زور دے رہے ہیں۔
تاہم اسرائیل پر پابندیوں کے لیے تمام 27 ممبر ممالک کے معاہدے کی ضرورت ہوگی۔
اس سے قبل فلسطین کے وزیر اعظم محمد اشتیہ نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں کو ضم کیا تو فلسطین مقبوضہ بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے تمام مغربی کنارے اور غزہ پر ریاست کا اعلان کردے گا۔
فلسطینی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل نے فلسطین کے زیر قبضہ علاقوں کو انضمام کرنے کا منصوبہ جاری رکھا تو تمام مغربی کنارے اور غزہ پر ریاست کا اعلان کریں گے اور عالمی سطح پر اس کو تسلیم کرانے کے لیے زور دیں گے۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے 23 اپریل کو کہا تھا کہ اگر مقبوضہ مغربی کنارے کا اسرائیل میں انضمام کیا گیا تو فلسطینی حکام کے اسرائیل اور امریکا سے ہوئے معاہدے کو مکمل طور پر منسوخ تصور کیا جائے گا۔
فلسطین اور عالمی برادری اسرائیلی آبادیوں کو جنیوا کنونشن 1949 کے تحت غیر قانونی قرار دیتی ہے جو جنگ کے دوران قبضے میں لی گئی زمین سے متعلق ہے جبکہ اسرائیل بیت المقدس کو اپنا مرکز قرار دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

طلوع آفتاب سے قبل تین منزلہ رہائشی عمارت گرنے سے کم از کم 10 افراد ہلاک

طلوع آفتاب سے قبل تین منزلہ رہائشی عمارت گرنے سے کم از کم 10 افراد ہلاک

بھارت: بھونڈی کی نگرانی کرنے والے تھانہ سٹی اتھارٹی کے ایک عہدیدار نے اے ایف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے