شہر کے مختلف علاقوں میں مینٹیننس کے نام پر آئے روز کئی گھنٹے بجلی بند رہنا معمول بن چکا

شہر کے مختلف علاقوں میں مینٹیننس کے نام پر آئے روز کئی گھنٹے بجلی بند رہنا معمول بن چکا

کراچی: شہر کے مختلف علاقوں میں اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ تو جاری ہی ہے تاہم آج (25 جون) سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران بھی لائٹ چلی گئی

سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران صوبائی وزیر زراعت اسمٰعیل راہو کی تقریر کے دوران ایوان میں بجلی منقطع ہونے کے بعد ایوان میں مکمل طور پر تاریکی چھاگئی۔
ایک طرف عوام بجلی کی بندش اور اس کے باعث پانی کے بحران سے پریشان ہیں تو دوسری جانب کے الیکٹرک کی جانب سے بندش کی وجہ سے بجلی کی طلب میں اضافے اور فرنس آئل کی کمی کو قرار دیا جاتا ہے۔
تاہم کے الیکٹرک کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں بجلی کی بندش کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا گیا کہ شدید گرم اور مرطوب موسم کی وجہ سے بجلی کی طلب 3 ہزار 450 میگاواٹ سے تجاوز کرچکی ہے۔
کے الیکٹرک نے کہا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کی جانب سے آر ایل این جی میں 50 ایم ایم سی ایف ڈی کی کمی نے بھی چیلنج میں اضافہ کیا ہے اور ہوا کی رفتار میں کمی کی وجہ سے بھی توانائی میں کمی آئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ان تمام عناصر کے باعث ہماری سپلائی 3 ہزار 150 میگاواٹ سے کم ہوکر 2 ہزار 800 میگاواٹ ہوگئی ہے۔
کے الیکٹرک نے کہا کہ وزارت توانائی کو اس صورتحال سے آگاہ کیا جارہا ہے اور فرنس آئل کی درآمد کے فیصلے کے تناظر میں آئندہ دنوں میں حالات معمول پر آنے کا امکان ہے۔
گزشتہ روز کراچی میں بجلی کی طویل بندش کا سامنا کرنے والے عوام نے حکام کی توجہ اپنی مشکلات اور گھروں میں آئسولیشن میں موجود مریضوں کی اذیتوں کی جانب توجہ مبذول کروانے کے لیے مرکزی شاہراہوں اور ہائی ویز کو بند کردیا تھا۔
گزشتہ روز نیشنل الیکٹرک پاور اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور زائد بلنگ پر ‘کے الیکٹرک’ کو نوٹس جاری کردیا تھا۔
نیپرا کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ کے-الیکٹرک کی غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور زائد بل وصول کرنے سے متعلق میڈیا رپورٹس پر نوٹس لیا گیا تھا۔
نوٹس کے مطابق نیپرا نے کے-الیکٹرک کو فوری طور پر تفصیلی رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

ضلع مٹیاری کے 2 کالجز کے 8 اسٹاف ممبران میں کرونا کی تشخیص

ضلع مٹیاری کے 2 کالجز کے 8 اسٹاف ممبران میں کرونا کی تشخیص

کراچی: وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے