کراچی طیارہ حادثے کی ابتدائی رپورٹ شام 4بجے منظرعام پر لائی جائے گی

کراچی طیارہ حادثے کی ابتدائی رپورٹ شام 4بجے منظرعام پر لائی جائے گی

22 کراچی: جون کو وزیرہوابازی غلام سرور خان نے ملاقات میں وزیراعظم عمران خان کوکراچی طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی تھی اور طیارہ حادثےکی وجوہات سےمتعلق وزیراعظم کوآگاہ کیا تھا

کراچی طیارہ حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کپتان اورائیرٹریفک کنٹرولر کو حادثے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ کپتان نے پروسیجر پر عمل درآمد نہیں کیا تھا، کپتان ضرورت سے زیادہ پراعتماد تھا۔
ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا تھا ایئرٹریفک کنٹرولر بھی واقعے کے ذمہ دارہیں ، جب انجن رن وے سےٹکرائے تھے تو اسی وقت طیارے کو روکنا چاہیے تھا، اپروچ ٹاور نے کنٹرول ٹاورکو سوئچ اوور نہیں دیاتھا اور فریکوینسی اپنے پاس رکھی تھی۔
ایوی ایشن ڈویژن نے پی آئی اے طیارہ 8303 حادثے کی رپورٹ مسترد کردی تھی اور کہا تھا کہ ایوی ایشن ڈویژن نے طیارہ حادثے پر کوئی تحقیقاتی رپورٹ جاری نہیں، میڈیا چینلز کی جانب سے چلائی جانے والی رپورٹ درست نہیں۔
22 مئی جمعۃ الوداع کو لاہور سے کراچی آنے والا پی آئی اے کا طیارہ ایئرپورٹ کے قریب واقع ماڈل کالونی جناح گارڈن کی رہائشی آبادی پر گر کر تباہ ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں 97 مسافر ہلاک جبکہ 2 مسافر معجزانہ طور پر بچ گئے تھے۔ حادثے میں مقامی لوگوں کی ہلاکتیں بھی ہوئیں جبکہ پانچ گھر مکمل تباہ ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

کے الیکٹرک نے نیپرا کی عوامی سماعت کے بعد شہریوں کو مزید تنگ کرنا شروع کردیا

کے الیکٹرک نے نیپرا کی عوامی سماعت کے بعد شہریوں کو مزید تنگ کرنا شروع کردیا

کراچی: کے الیکٹرک نے شدید گرمی کے موسم میں بھی شہرکے متعدد علاقوں میں 3 …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے