گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی نے منگل کی درمیانی شب میں اپنی 5 سالہ مدت مکمل کرلی

گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی نے منگل کی درمیانی شب میں اپنی 5 سالہ مدت مکمل کرلی

گلگت بلتستان: محکمہ قانون اور پراسیکیوشن گلگت بلتستان کے جاری ایک نوٹیفکیشن کے مطابق گلگت بلتستان گورننس ریفارمز 2019 کے آرٹیکل 56 (5) کے تحت 23 جون کی رات کو گلگت بلتستان اسمبلی اپنی 5 سالہ مدت پوری کرکے تحلیل ہوگئی

اس ریفارمز کو جی بی (انتخابات اور نگراں حکومت) ترمیمی آرڈر 2020 کے ذریعے پاکستان کے صدر کی جانب سے جی بی میں لاگو/بڑھایا گیا تھا۔
جی بی کونسل سیکریٹرٹ کی جانب سے منگل کو جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ حکومت گلگت بلتستان کے آرڈر 2018 کے آرٹیکل 48 اے (2) کے مطابق گلگت بلتستان کونسل کے چیئرمین نے موجودہ گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ اور سبکدوش ہونے والی گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی اور وفاقی وزیر برائے کشمیر اموت اور گلگت بلتستان کی مشاورت سے میر افضل کو گلگت بلتستان کا نگراں وزیراعلیٰ منتخب کیا جاتا ہے۔
ضلع استور کے بنجی علاقے سے تعلق رکھنے والے میر افضل، ڈپٹی انسپیکٹر جنرل پولیس کے طور پر ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔
سرکاری ذرائع کا کہنا تھا کہ نگراں وزیراعلیٰ آج (بدھ) کو اسلام آباد میں عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔
دوسری جانب جب اس معاملے پر وفاقی وزیر برائے کشمیر امور اور گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ جی بی کے کابینہ اراکین کے ناموں کا نوٹیفکیشن نگراں وزیراعلیٰ کے دفتر سنبھالنے کے بعد جاری کیا جائے گا۔
گلگت بلتستان اسمبلی کے وقت پر انتخابات منعقد کرانے کے لیے ایک عارضی شیڈول الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) کو بھیج دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ قانون ک مطابق یہ ضروری ہے کہ 2 ماہ کے اندر انتخابات منعقد کیے جائیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ای سی پی اس حوالے سے فیصلہ کرے گا کہ آیا کووڈ 19 کی صورتحال کے دوران انتخاب منعقد کروانا ممکن ہے یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں

جب تک سیاستدان جمہوریت نہیں لاتے جمہوریت کیسےآسکتی ہے

جب تک سیاستدان جمہوریت نہیں لاتے جمہوریت کیسےآسکتی ہے

اسلام آباد: وفاقی وزیربرائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے