آصف علی زرداری،پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

آصف علی زرداری،پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: ڈسٹرک جیل ملیر میں قید ملزم خواجہ انور مجید اور راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں عدالتی حراست میں موجود حسین لوائی، طحہٰ رضا اور محمد عمیر عدالت کی کارروائی میں ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوسکتے ہیں

عدالت نے دیگر ملزمان کو فرد جرم عائد ہوتے وقت عدالت میں موجود رہنے کی ہدایت کی۔
عدالت نے رجسٹرار احتساب عدالت کراچی سے قومی اداہ برائے امراض قلب کراچی میں زیر علاج ملزم خواجہ انور مجید کی شناخت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
ساتھ ہی عدالت نے قومی احتساب بیورو کراچی کو ہدایت کی کہ انور مجید کی حاضری کے لیے ویڈیو لنک سہولت پیش کی جائے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اسٹیٹ بینک سرکل نے 6 جولائی 2018 کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 419، 420، 468، 471، 109، انسداد بد عنوانی ایکٹ 1947 کے سیکشن 5 کی شق 2 اور انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کی دفعات 3 اور 4 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔
مقدمے میں الزام تھا جعلی اور بے نامی اکاؤنٹس میں رقم جمع کروانے اور نکالنے کے ذریعے بھاری رقم کی منی لانڈرنگ کی گئی۔
مزید یہ کہ جعلی اکاؤنٹس کیس میں ملوث کمپنیوں کے نام ایف آئی آر میں شامل تھے جن پر 4 ارب 14 کروڑ 50 لاکھ روپے کے دھوکے کا الزام ہے۔
سابق صدر اور پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری پر 26 جون کو پارک لین کیس میں فرد جرم عائد کی جائے گی۔
2015 کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔
یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، سندھ بینک اور سمٹ بینک میں موجود ان 29 بے نامی اکاؤنٹس میں موجود رقم کی لاگت ابتدائی طور پر 35ارب روہے بتائی گئی تھی۔
اس سلسلے میں ایف آئی اے نے معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد ماہ اگست میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔
7 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔
جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سے پوچھ گچھ کی تھی جبکہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
آصف علی زرداری نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ 2008 سے وہ کسی کاروباری سرگرمی میں ملوث نہیں رہے اور صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے خود کو تمام کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں سے الگ کرلیا تھا۔
جے آئی ٹی نے عدالت عظمیٰ کو رپورٹ پیش کی تھی، جس میں 172 افراد کا نام سامنے آیا تھا، جس پر وفاقی حکومت نے ان تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کردیے تھے۔
تاہم 172 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے پر سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کیا تھا اور معاملے پر نظرثانی کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے یہ کیس نیب کے سپرد کرتے ہوئے 2 ماہ میں تحقیقات کا حکم دیا تھا اور نیب نے اس کے لیے مشترکہ انویسٹی گیشن ٹیم قائم کی تھی، جس کے سامنے آصف زرداری پیش ہوئے تھے۔

15 مارچ کو کراچی کی بینکنگ عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی کی نیب کی درخواست منظور کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

نواز شریف کے اے پی سی سے خطاب کو روکنے لیے قانونی طریقہ کار پر غور

نواز شریف کے اے پی سی سے خطاب کو روکنے لیے قانونی طریقہ کار پر غور

اسلام آباد: اب اس معاملے پر وفاقی حکومت بھی میدان میں آ گئی ہے اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے