بے حسی

ہم اس قدر بے حس ہوچکے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کدھر ہے ہم لوگوں کی انسانیت

تحریر: ڈاکٹر مریم نور

کچھ دن پہلے اسلم گھر لوٹا تو اسکے پوتے پوتییاں اسکے ہاتھ میں تھامے شاپروں کی طرف لپکے اور اسلم خوشی سے کہہ رہا تھا مل بانٹ کے کھاو اللہ کا رزق ہے ۔

آج وہی اسلم اکسیجن سلینڈر کے ساتھ دوائیوں ٹیکوں کی مدد سے بمشکل سانس لینے کی تگ و دو میں تھا۔

آج صبح سے ہی اسلم کی آکسیجن کم ہورہی تھی ,ڈاکڑ وینٹیلیٹر نہ ہونے کی وجہ سے اسلم کی رکتی سانسوں پے اسکے بیٹے کو بتا رہے تھے کے اسلم کی صورتحال بہت تشویشناک ہے۔

سب کہہ رہے تھےاسے "کورونا ” ہوگیا ہے ڈاکٹروں کی ہدایت پے اسکے دونوں بیٹے مہنگا ٹیکہ لانے کی دوڑ میں لگے رہے۔ جوں جوں شام کے سائے ڈھل رہے تھے اسلم کی سانسیں مشکل تر ہوتی جارہی تھیں۔ اللہ اللہ کرکے ٹیکے کا انتظام ہوگیا ایک امید کی کرن جاگی کہ اسلم کی بڑھتی تنگی کا کچھ مداوا ہوسکے گا۔

اسٹاف نے ٹیکہ تیار کرکے جوں ہی اسلم کی جانب بڑھیں اسلم کی تھمتی سانسیں رکنے لگیں۔ ڈاکٹر دم توڑتے اسلم کو نہ بچا سکے اور سانسوں کو بحال کرنےکی کوشش میں اسلم کی دل کی پٹی پے سیدھی لکیر آگئ۔۔۔۔۔۔ انا للہ وانا الہ راجعون

ڈاکٹرنے ان کے بیٹے سے التجا کی جو مہنگا ٹیکہ اسلم کے لیے تیار ہوا تھا ایک اورسریس مریض کو لگا دیں جس کے گھر والے ٹیکہ خریدنے کی سکت نہ رکھتے تھے۔

مگر یہ کیا اس کی بیٹے نے صاف انکار کردیا ڈاکٹر سمجھاتے رہے یہ اپکے کسی کام کا نہی خدارا کسی مرتے کی جان بچالیں صدقہ جاریہ سمجھ کہ
لیکن دوسری جانب مکمل بے حسی تھی اسلم کی میت کے سامنے اسکے بیٹے کا نا روا لہجہ پریشان کن تھا۔
مل بانٹ کے کھاو اللہ کا رزق ہے یہ کہتے کہتے اسلم تو چلا گیا مگر !

ایک سوالیہ نشان چھوڑ گیا کیا ہم اس قدر بے حس ہوچکے ہیں ۔۔۔۔۔۔

مسیحاوں پے زہر کے ٹیکے لگا کے جان لینے کا الزام لگانے والوں سے کوئی پوچھے کدھر ہے تم لوگوں کی انسانیت

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

یہ بھی پڑھیں

کے الیکٹرک کے ستم شہر قائد بنا اندھیر نگری

کبھی روشنیوں کا شہر کہلانے والا کراچی "کے الیکٹرک” کی بدولت اندھیروں میں ڈوبا پڑا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے