جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس خارج

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس خارج

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے چار بجے سنائے گئے اپنے مختصر فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسی کی ریفرنس کالعدم قرار دینے کی درخواست منظور کرلی

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کالعدم قرار دینے کا فیصلہ تمام 10 ججز متفقہ کاہے۔
7 ججز نے قاضی فائز کی اہلیہ کے ٹیکس معاملات فیڈرل بورڈ آف ریوینو (ایف بی آر) کو بھیجنے کا حکم دیا جبکہ ایک جج جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریفرنس کیخلاف قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست ناقابل سماعت قرار دی۔
آج بھی سپریم کورٹ میں 10 رکنی لارجر بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر سماعت ہوئی جس میں وفاق کے وکیل فروغ نسیم نے ایف بی آر کے دستاویز سر بمہر لفافے میں عدالت میں جمع کرائیں۔
جب کہ ایف بی آر کی جانب سے بھی جسٹس قاضی کی اہلیہ کا ٹیکس ریکارڈ عدالت میں جمع کرایا گیا۔
فروغ نسیم کے ریکارڈ پر بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم ابھی اس لفافے کا جائزہ نہیں لیتے اور نہ ہی اس پرکوئی آرڈر پاس کریں گے، معزز جج کی بیگم صاحبہ تمام دستاویز ریکارڈ پر لاچکی ہیں، آپ اس کی تصدیق کروائیں، ہم ابھی درخواست گزار کے وکیل منیر ملک کو سنتے ہیں۔
اس دوران جسٹس قاضی فائز کے وکیل منیر اے ملک نے بھی سر بمہر لفافے میں دستاویزات عدالت میں پیش کردیں۔
اس کے علاوہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے زرعی زمین اور پاسپورٹ کی نقول بھی جمع کرائیں۔
منیر اے ملک نے اپنے جوابی دلائل میں کہا کہ افتخار چوہدری کیس میں سپریم جوڈیشل کونسل پربدنیتی کے الزامات تھے، فروغ نسیم نے کہا ان کا اصل کیس وہ نہیں جو ریفرنس میں ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کبھی اہلیہ کی جائیدادیں خود سے منسوب نہیں کیں، الیکشن اور نیب قوانین میں شوہر اہلیہ کے اثاثوں پر جوابدہ ہوتا ہے، فروغ نسیم نے کہا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ آنے میں دیر کردی، بد قسمتی سے فروغ نسیم غلط بس میں سوار ہوگئے ہیں۔
حکومت ایف بی آر جانے کے بجائے سپریم جوڈیشل کونسل آگئی، ایف بی آر اپنا کام کرے ہم نے کبھی رکاوٹ نہیں ڈالی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی اور عدلیہ کی عزت کی خاطر ریفرنس چیلنج کیا، چاہتے ہیں کہ عدلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کالعدم قرار دے۔
جسٹس قاضی کے وکیل نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کوکوئی نیا ادارہ یا ایجنسی بنانے کا اختیار نہیں، اثاثہ جات ریکوری یونٹ کی تشکیل کیلئے رولز میں ترمیم ضروری تھی، اثاثہ جات ریکوری یونٹ کے ٹی او آرز قانون کیخلاف ہیں، باضابطہ قانون سازی کے بغیر اثاثہ جات ریکوری یونٹ جیسا ادارہ نہیں بنایا جاسکتا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے صدر مملکت کو خط لکھنے پر سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک اور ریفرنس دائر کیا گیا تھا جس کو کونسل نے خارج کردیا تھا۔
اس کے بعد عدالت عظمیٰ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور دیگر کی جانب سے صدارتی ریفرنس کو چیلنج کیا گیا اور اس پر فل کورٹ سماعت کررہا تھا جس نے آج فیصلہ سنادیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

نیپرا بجلی کے نرخوں میں ایک روپے 62 پیسے اضافے کی منظوری

نیپرا بجلی کے نرخوں میں ایک روپے 62 پیسے اضافے کی منظوری

اسلام آباد: نیپرا کے ایک ترجمان نے کہا کہ ریگولیٹر کے نئے نرخ وفاقی حکومت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے