گذشتہ روز سی ایس ایس 2019 کے فائنل نتائج کا اعلان کیا

گذشتہ روز سی ایس ایس 2019 کے فائنل نتائج کا اعلان

اسلام آباد: ان 214 کامیاب امیدوارن میں 132 مرد جبکہ 82 خواتین ہیں کامیاب امیدواروں میں سے لگ بھگ تین درجن امیدواروں کو پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروس (PAS) گروپ میں پوزیشنز الاٹ کی گئی ہیں

مقابلے کے اس امتحان کا حصہ بننے والے بیشتر امیدواران کی پہلی چوائس عموماً یہی گروپ ہوتا ہے۔
پاکستان میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر گذشتہ رات سے ہیش ٹیگ ’سی ایس ایس 2019‘ ٹاپ ٹرینڈز میں ہے۔
اس ہیش ٹیگ کے تحت اس امتحان میں کامیاب ہونے والے بہت سے امیدوار اپنی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے مبارکبادیں وصول کر رہے ہیں اور چند ایسے بھی ہیں جو بتا رہے ہیں کہ کتنی محنت کے بعد انھوں نے یہ پوزیشن حاصل کی یا اپنے خاندان میں وہ پہلے فرد ہیں جنھیں یہ ’اعزاز‘ حاصل ہوا ہے۔
اگر آپ اس ہیش ٹیگ کے تحت ہونے والی ٹویٹس کا بغور جائزہ لیں تو ایسا محسوس ہو گا کہ رواں برس 214 امیدوار نہیں بلکہ شاید تحریری امتحان میں شمولیت اختیار کرنے والے تمام ساڑھے 14 ہزار امیداور کامیاب قرار ہوئے ہیں اور ان میں سے بیشتر کو پاکستان ایڈمنسٹریٹیو گروپ ہی الاٹ ہوا ہے۔
آپ کو ایسا بھی محسوس ہو سکتا ہے کہ شاید اس مرتبہ ٹاپ 20 پوزیشنز درحقیقت 20 افراد میں نہیں بلکہ دو ہزار امیدواران میں بانٹی گئی ہیں۔
چلیے دیکھتے ہیں کیسے۔
اسمار اشرف نامی صارف نے نتائج کے اعلان کے فوراً بعد اپنے فالورز کو آگاہ کیا کہ ’پاکستان بھر میں 17ویں پوزیشن، پاکستان ایڈمنسٹریٹیو گروپ۔ اس کامیابی پر الحمدوللہ۔ خواب سچ ہو جاتے ہیں۔‘
ان کی اس ٹویٹ کو دو ہزار کے لگ بھگ صارفین نے لائیک کیا، 64 نے ری ٹویٹ کیا جبکہ انھیں درجنوں تہنیتی پیغامات موصول ہوئے۔
درحقیقت ایف پی ایس سی کی جانب سے جاری کردہ نتائج کے مطابق 17ویں پوزیشن پنجاب سے تعلق رکھنے والے علی شان ملک نامی طالبعلم نے حاصل کی ہے۔
شاید یہ ٹویٹ کرتے ہوئے اسمار اشرف کو بھی معلوم نہیں ہو گا کہ انھیں اتنا ردعمل موصول ہو گا۔ اسی لیے انھوں نے اگلی ہی ٹویٹ میں آگاہ کیا کہ ’دوستوں یہ ایک مذاق تھا۔۔۔ ان لوگوں سے معذرت جنھوں نے مجھے اس ٹویٹ کے بعد فالو کیا۔ خادم آپ کا کام نہیں کروا سکے گا۔
ارسلان نامی صارف نے بھی اعلان کیا کہ ’خدا مجھ پر بہت مہربان ہے۔ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ 278 ویں پوزیشن۔‘
تاہم شاید وہ یہ بھول گئے کہ نتائج کے مطابق تحریری امتحان میں پاس ہو کر 278 ویں پوزیشن حاصل کرنے والی سنبل جاوید بٹ تھیں جنھیں کامیاب ہونے کے باوجود کوئی گروپ الاٹ نہیں کیا گیا۔
حزا نامی صارف نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے اور ان کے مطابق وہ ’سخت محنت اور والدین کی دعاؤں کے باعث‘ پانچویں پوزیشن پر رہیں۔ ٹوئٹر پر یہ بتاتے ہوئے ان کی آنکھوں میں ’ہیپی ٹیرز‘ تھے شاید وہ کہنا چاہ رہی تھیں کہ ’خوشی کے آنسو۔
اگر پانچویں پوزیشن ان کی ہے تو اربن سندھ سے تعلق رکھنے والے عبدل باسط صدیقی کون ہیں جو ایف پی ایس سی کے مطابق یہ پوزیشن سنبھالے بیٹھے ہیں؟
ٹوئٹر پر نعمان وزیر بھی کامیاب ہونے کے بعد آڈٹ گروپ ملنے کی نوید سنا رہے ہیں تاہم نتائج میں اس نام کا بندہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔
اقرا نامی صارف نے گذشتہ رات ٹوئٹر پر اپنے فالوورز کو آگاہ کیا کہ ‘ان کی زندگی کا خوشگوار ترین لمحہ ہے۔’
وجہ آپ جانتے ہی ہوں گے!

طلحہ جاوید کو بھی پاکستان ایڈمنسٹریٹیو گروپ کے لیے سلیکٹ کر لیا گیا ہے۔
اسی طرح فخر نامی صارف بھی 14 ویں پوزیشن پر گذشتہ رات سے براجمان ہیں جبکہ فہما شاہد تیسری پوزیشن پر اور اسی طرح یہ فہرست بہت طویل ہے۔۔۔
فہما نے بھی بعدازاں اپنی ٹویٹ میں کہا کہ وہ مذاق کر رہی تھیں۔
اتنی کثیر تعداد میں کامیاب نوجوانوں کو دیکھتے ہوئے سلمان حیدر نامی صارف نے لکھا کہ ’سی ایس ایس: پہلی دس پوزیشنز پر بڑا رش ہے اس دفعہ۔
اسی طرح شانی بلوچ کا کہنا تھا کہ ’چند لوگوں نے ٹوئٹر پروفائل بنانی تھی اور شاید وہ اس کام کے لیے سی ایس ایس کے نتائج کا ہی انتظار کر رہے تھے۔‘
پاکستان میں سی ایس ایس کا امتحان دینے والے لگ بھگ تمام امیدواروں کی پہلی چوائس پی اے ایس ہی ہوتی ہے۔ اسی طرح ٹوئٹر پر موجود زیادہ تر جعلی امیدوار بھی اسی گروپ میں شمولیت کا دعوی کر رہے ہیں۔
سابقہ بیوروکریٹ اور ڈی ایم جی گروپ کے افسر امتیاز عنایت الہی نے بتایا کہ یہ مسئلہ آج کا نہیں بلکہ اس کا تاریخی پسِ منظر ہے۔
انھوں نے کہا کہ تقسیمِ برصغیر سے قبل جب آئی سی ایس کا امتحان ہوتا تھا تب بھی غیرمنقسم ہندوستان میں امیدواروں کی زیادہ تر چوائس یہی ہوتی تھی۔ ’اس میں ایک تاریخی دلکشی ہے۔ انگریز فوج کے بڑے افسر یہاں آ کر انتظامی عہدوں، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر وغیرہ، پر تعینات ہوتے تھے اور تاریخی طور پر ان عہدوں سے منسلک افراد کے پاس کافی اختیارات ہوتے ہیں۔
ہمارے ملک میں درپیش مسائل بھی اس طرح کے ہر خاندان چاہتا ہے کہ اس کا ایک فرد اس سروس سے منسلک ہو جائے تاکہ تھانہ، زمین کے معاملات اور دیگر امور میں مستقبل میں پریشانی نہ ہو۔ اگر پاکستان ترقی پذیر کے بجائے ترقی یافتہ ملک ہوتا تو صورتحال یقیناً اس سے یکسر مختلف ہوتی۔‘
انھوں نے کہا کہ پی اے ایس گروپ میں شامل افراد کو دوسرے گروپس کی نسبت سہولیات زیادہ مہیا ہوتی ہیں۔ یہ پاور فُل پوزیشنز ہیں اور چھوٹے شہروں اور دیہی پس منظر کے حامل معاشرے میں ان کو ترجیح دی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

جب تک سیاستدان جمہوریت نہیں لاتے جمہوریت کیسےآسکتی ہے

جب تک سیاستدان جمہوریت نہیں لاتے جمہوریت کیسےآسکتی ہے

اسلام آباد: وفاقی وزیربرائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے