9 سال طویل قانونی جنگ جاری رہنے کے بعد پھر سے قانونی جنگ جاری

9 سال طویل قانونی جنگ جاری رہنے کے بعد پھر سے قانونی جنگ جاری

کراچی: سپریم کورٹ اف پاکستان کے فیصلے کے مطابق تینوں اسپتالوں کو وفاق کے حوالے کردیا گیا جس کے بعد گزشتہ روز وفاقی حکومت نے بھی تینوں اسپتالوں کو دوبارہ وفاق کے زیر انتظام کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا

صوبائی حکومت نے وفاق کے نوٹیفیکیشن پر پیر کو اپنے ردعمل میں ایک بار پھر سندھ حکومت کے ماتحت کیے جانے کا مطالبہ کردیا۔
9 سال طویل جاری قانونی جنگ کے بعد بھی سندھ حکومت کی تسلی نہ ہوسکی، صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ تینوں اسپتالوں کو سندھ حکومت کے ماتحت کیے جانے کے لیے نظرثانی درخواست سپریم کورٹ میں پہلے سے دائر ہے۔
وزیر صحت کے پیر کو جاری کیے جانے والے بیان سے یہ تاثر سامنے ایا کہ ایک بار پھر حکومت سندھ اس معاملے پر قانونی جنگ لڑنے کے لیے تیار ہے۔
جے پی ایم سی اور دیگر اداروں کی منتقلی کے معاملے پرصوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عدالتی احکامات کی روشنی میں وفاق کو اداروں کی واپسی کے لیے قانونی طریقہ کار اپنانے کی ضرورت ہے۔
یہ نہیں ہوسکتا کہ وفاق کی طرف سے ایک آدمی آ کر چلتے پھرتے اداروں کا کنٹرول لے لے۔ وزیر صحت نے کہا کہ گورنمنٹ سے گورنمنٹ ٹرانسفر کے لیے دونوں سے طرف بیٹھ کر معاملات طے کرنے کی ضرورت ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں اداروں کا چارج لے۔اٹھارویں ترمیم کے بعد ہیلتھ سروسرز صوبوں کے پاس رہنا چاہیے، اس ضمن میں ہم نے سپریم کورٹ میں درخواست دے رکھی ہے۔
ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ امید ہے اداروں کی واپسی کے بعد وفاق سندھ حکومت کی طرح بجٹ میں اضافہ کرتا رہے گا۔وفاق کی طرف سے اسپتالوں کی واپسی کی خواہش کو دیکھتے ہوئے سندھ میں پچھلے سال ایس آئی سی وی ڈی کے لیے قانون سازی کردی گئی تھی۔ عدالتی احکامات کے تحت وفاق کو ادارے ضرور واپس کیے جائیں گے لیکن ان پر لگے اخراجات و واجبات وفاق کو واپس بھی کرنا ہونگے۔
صوبہ سندھ کے تین بڑے اسپتال قومی ادارہ برائے امراض قلب، قومی ادارہ صحت برائے اطفال اور جناح اسپتال کے سربراہان نے اسپتالوں کے معاملات صوبہ سندھ یا وفاقی حکومت کے ماتحت ہونے کے فیصلے میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے
مطالبہ کیا کہ اسپتالوں کی منتقلی کا حتمی فیصلہ جلد کیا جائے،قومی ادارہ صحت برائے اطفال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جمال رضا کاکہنا تھا کہ صوبہ سندھ کے تین بڑے اسپتال جے پی ایم سی، این آئی سی ایچ اور این آئی سی وی ڈی کا کنٹرول صوبائی حکومت یا وفاقی حکومت کو دینے کا فیصلہ جلد کیا جائے۔
سندھ حکومت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ اس مشکل ترین وقت میں بھی وفاقی حکومت غیر سنجیدہ فیصلے کررہی ہے لگتا ہے وفاقی حکومت کورونا سے نہیں بلکہ سندھ حکومت سے لڑنا چاہتی ہے

یہ بھی پڑھیں

سمندر کی نچلی سطح کے بادلوں کی وجہ سے ہلکی بارش ہوسکتی ہے

سمندر کی نچلی سطح کے بادلوں کی وجہ سے ہلکی بارش ہوسکتی ہے

کراچی: شہر میں رواں ماہ اوراکتوبر میں سمندر کی نچلی سطح کے بادلوں کی وجہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے