ملک بھر میں تعلیمی ادارے کھولنے کی درخواست مسترد

ملک بھر میں تعلیمی ادارے کھولنے کی درخواست مسترد

اسلام آباد: چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہرمن اللہ نے ملک بھر کے تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق درخواست پر سماعت کی

درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پرائیویٹ اسکولوں سے منسلک لوگوں کی نوکریاں ختم ہو رہی ہیں، حکومتی پالیسی سے لوگوں کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اس وقت سب سے بڑا بنیادی حق انسانی زندگی بچانا ہے، کیا باقی ممالک میں اسکول کھولے گئے؟ ترقی یافتہ ممالک میں بھی اسکول نہیں کھلے، وبا کے ساتھ کیسے نمٹنا ہے یہ حکومت کا کام ہے، ہم نے تو عدالتیں بھی حکومتی پالیسی کو مدنظر رکھ کر کھولی ہیں، اس حوالے سے عدالت مداخلت نہیں کرے گی، یہ ایگزیکٹو کا کام ہے اور وہی اس کو دیکھے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے تعلیمی ادارے کھولنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پرائیویٹ اسکولز حکومتی اتھارٹی پیرا کو بھی درخواست دے سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نواز شریف کے اے پی سی سے خطاب کو روکنے لیے قانونی طریقہ کار پر غور

نواز شریف کے اے پی سی سے خطاب کو روکنے لیے قانونی طریقہ کار پر غور

اسلام آباد: اب اس معاملے پر وفاقی حکومت بھی میدان میں آ گئی ہے اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے