بجٹ میں غریب اور محنت کش طبقات کے لئے کچھ بھی نہیں ہے

بجٹ میں غریب اور محنت کش طبقات کے لئے کچھ بھی نہیں ہے

 اسلام آباد: انہوں نے بجٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پی ایس ڈی پی اور ترقی اخراجات کہاں ہیں جن سے روزگار ملے اور ملک میں ترقی ہو؟

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے کہا کہ آئندہ سال اور بھی سخت اور مشکل ہوگا، قوم کو ابھی سے خبردار کر رہا ہوں کہ حکومت منی بجٹ لائے گی۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قوم کو خبردار کررہا ہوں کہ حکومت چور دروازے سے مزید ٹیکس لگائے گی۔
وفاقی حکومت نے گزشتہ روز آئندہ مالی سال کے لیے 71 کھرب 37 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا ہے۔
حکومتی اتحادی جماعتوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال میں اس سے بہتر بجٹ پیش نہیں کیا جا سکتا تھا جب کہ اپوزیشن جماعتوں نے بجٹ کو مسترد کر دیا ہے۔
معاشی ماہرین نے بھی بجٹ کے بعد اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ حکومت بہت جلد منی بجٹ پیش کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں

نواز شریف کے اے پی سی سے خطاب کو روکنے لیے قانونی طریقہ کار پر غور

نواز شریف کے اے پی سی سے خطاب کو روکنے لیے قانونی طریقہ کار پر غور

اسلام آباد: اب اس معاملے پر وفاقی حکومت بھی میدان میں آ گئی ہے اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے