ماہر تعلیم اور فارسی کے پروفیسر ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی انتقال کر گئے

ماہر تعلیم اور فارسی کے پروفیسر ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی انتقال کر گئے

لاہور: پروفیسر ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی لاہور سے ایم اے تاریخ اور ایم اے فارسی کی ڈگریاں حاصل کر کے شعبہ تعلیم سے منسلک ہوئے اور انہوں نے فارسی کے استاد کے طور پر شہرت پائی

پروفیسر ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی 9 اکتوبر 1935 کو شیرانی آباد ضلع ناگور ریاست جودھ پور میں پیدا ہوئے وہ اردو کے معروف محقق پروفیسر حافظ محمود خان شیرانی کے پوتے اور نامور رومانوی شاعر اختر شیرانی کے صاحبزادے تھے
ڈاکٹر مظہر محمود نےحافظ محمود خان شیرانی کی علمی و ادبی خدمات پر مقالہ لکھا اور اردو میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
انہوں نے رٹائرمنٹ کے بعد خاکہ نگاری کی طرف بھی توجہ دی اور 4 مجموعے بعنوان ‘کہاں گئے وہ لوگ’، ‘کہاں سے لاؤں انہیں’، ‘جانے کہاں بکھر گئے’ اور ‘بے نشانوں کا نشاں’ کے نام سے لکھے۔
تحقیقی مقالات کی تعداد 50 سے زائد ہے۔

یہ بھی پڑھیں

حکومت طلال کے ایشو پر پوائنٹ اسکورنگ کررہی ہے

حکومت طلال کے ایشو پر پوائنٹ اسکورنگ کررہی ہے

لاہور: رانا ثنا اللہ نے کہا کہ طلال چوہدری پر شفاف تحقیقات کرکے عوام کو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے