راحیل شریف کو این او سی خوشی سے دیا، سعودیہ سے تعلقات اچھے ہیں، یمن میں کوئی مداخلت نہیں ہوگی: خواجہ آصف

اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو حکومت نے این او سی خوشی سے دیاہے ، سعودی عرب نے الائنس کے معاملے پر پاکستان کو خط لکھا تھاکہ ہمیں راحیل شریف کی خدمات چاہیئں،تاحال یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ فوجی اتحاد کی سربراہی کے لئے کونسا یونیفارم پہنیں گے۔ نجی ٹی وی سماءنیوز کے پروگرام "ندیم ملک لائیو”میں گفتگو کرتے ہوئے خوا جہ آصف نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے اچھے تعلقات ہیں،اس وقت 26لاکھ پاکستانی سعودی عرب میں کام کر رہے ہیں،ہر سال ہزاروں لوگ آتے جاتے ہیں ۔مختلف عرب ممالک کے ساتھ فوج کا پرانا رشتہ ہے،ہم فوج کی تربیت کے لئے سہولیات فراہم کر رہے ہیں جبکہ ترکی اور چین کے ساتھ شپ یارڈ میں تعاون حاصل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اتحاد میں ہماری فوج کا کردار سعودی بارڈر کے اندر ہوگا،یمن میں ہماری ہر گز کوئی مداخلت نہیں ہوگی جبکہ فوجی اتحاد میں اگر ایران کو تحفظات ہیں تو دور کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جنرل راحیل شریف کی طرف سے ان کی مدت میں توسیع کی کوئی درخواست نہیں آئی تھی،کچھ ساتھیوں کی خواہش تھی کہ ان کو بھی توسیع دی جائے لیکن نواز شریف کی کسی وقت  دورائے نہیں تھی جبکہ جنرل کیانی کو خواہشات  کی بنا پر تین سال کی توسیع دی گئی ۔پی ٹی آئی چیئر مین  کی آرمی چیف سے ملاقات پر ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملنے کی درخواست کی تھی،ملاقات کا ایجنڈا انہیں ہی پتہ ہوگا ،سول ملٹری  کے موضوع کو زیر بحث نہیں لانا چاہیے۔

خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ میرے دور میں لوڈ شیڈنگ میں کافی حد تک کمی ہوئی تھی، گیلپ کے مطابق 60فیصد تک کمی آئی جبکہ مجھے اپنی اس کارکردگی کی خبر پیسے دے کر لگوانی پڑتی ہے۔نعیم الحق کے بیان پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتا،نیوز لیکس کا بھی اب معاملہ ختم ہوگیا ہے۔ اگر ملکی ادارے مضبوط کرنے ہیں تو اس میں میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے،پیپلز پارٹی سے ہماری کسی بات پر بھی کوئی ڈیل نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں

مقبوضہ وادی میں مسلمانوں کے قتل عام کیلیے آرایس ایس کےغنڈے بھیجےجارہے ہیں،وزیراعظم

مقبوضہ وادی میں مسلمانوں کے قتل عام کیلیے آرایس ایس کےغنڈے بھیجےجارہے ہیں،وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر دنیا کو خبردار کرتے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے