واہگہ بارڈر پر لگے بلند ترین پول سے بھارتی جھنڈا غائب

امرتسر: پاک بھارت واہگہ اٹاری سرحد پر گزشتہ 10 روز سے بھارتی پرچم نہیں لہرایا گیا جس کی وجہ 360 فٹ بلند پول پر جھنڈے کا پھٹ جانا بتایا جارہا ہے۔ بھارتی حکومت جہاں اپنے فوجیوں کو 2 وقت کا کھانا صحیح طریقے سے نہیں دے سکتی وہیں اپنے دفاعی بجٹ میں روز بروز اضافے کے دعوے کرتی رہتی ہے کبھی بھارتی فوجی اپنے افسران کی مالی بے ضابطگیوں کا پول کھولتے ہیں تو کبھی حکومت کی جانب سے کھانا نہ دینے کا بھانڈا پھوڑتے ہیں۔ اور جب حکومت اور افسران کے ناروا سلوک کا رونا رویا جاتا ہے تو انہیں پھر ناصرف سزا دی جاتی ہے بلکہ ان کو موت کے منہ میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے سیکڑوں کی تعداد میں بھارتی فوجی پاگل ہوچکے ہیں یا پھر خود کشی کو ترجیح دیتے ہیں اور صرف مقبوضہ کشمیر میں خود کشی کرنے والے بھارتی فوجیوں کی تعداد ساڑھے 3 سو سے زائد ہے۔

افسران کی خورد برد کی کہانیاں صرف اپنے فوجی جوانوں تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ بدعنوانی اب قومی پرچم  تک جاپہنچی ہے اور اسی وجہ سے  10 روز گزرجانے کے باوجود بین الاقوامی سرحد پر بھارتی پرچم نہیں لہرا سکا اور حکومت کی کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ بین لاقوامی سرحد واہگہ پر 360 فٹ لمبے پول کے افتتاح کو ابھی ایک ماہ کا عرصہ بھی نہیں ہوا کہ اس پر 1 لاکھ 25 ہزاربھارتی روپوں کی مالیت کے 3 جھنڈے پھٹ چکے ہیں اور 10 روز کے بعد بھی بھارتی فوج نے چوتھا جھنڈا لگانے کی ہمت نہیں کی۔

امرتسر امروومنٹ ٹرسٹ کے چئیرمین سریش مہاجن کا کہنا ہے کہ سرحد پر سب سے لمبے پول کو جلد سے جلد نصب کرنے کی ہوشیاری میں حکام نے تکنیکی رپورٹ تک نہیں بنوائی جب کہ پول پر لگائے گئے جھنڈے کی کوالٹی بھی ناقص ہوتی ہے اور تیز ہواؤں کے باعث اب تک 3 جھنڈے پھٹ چکے ہیں۔ اس پروجیکٹ میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ واضح رہے کہ بین الاقوامی سرحد پر واقع بھارتی چوکی کے قریب ایک ماہ قبل  بلند ترین بھارتی پرچم لہرانے کے لیے 360 فٹ بلند پول نصب کیا گیا تھا جس پر 120 فٹ لمبا اور 80 فٹ چوڑا پرچم لہرایا گیا۔ لیکن بھارتی پرچم تیز ہواؤں کا سامنا کرنے کے بجائے 3 بار پھٹ کر زمین پر آچکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

امریکا جیسا ملک اپنے اتحادی ملک ترکی کو مزید نقصان نہیں پہنچانے چاہے گا

انقرہ: ترک صدر نے روسی ہتھیار خریدنے کے بعد سے امریکا اور ترکی کے مابین …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے