لیاری میں گرنے والی عمارت سے لاشیں نکالنے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 22 ہوگئی

لیاری میں گرنے والی عمارت سے لاشیں نکالنے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 22 ہوگئی

کراچی: گرنے والی عمارت کا ملبہ ہٹانے اور امدادی کارروائی جس کے حوالے سے حکام نے دعوی کیا تھا کہ یہ کام 24 گھنٹوں میں مکمل ہوجائے گا اب بھی جاری ہے

گزشتہ روز ڈی آئی جی جنوب شرجیل کھرل نے بتایا تھا کہ ’مجموعی طور پر 19 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں ہیں اور ان سب کو سول اسپتال کراچی منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کے اہل خانہ نے ان کی شناخت کی ہے‘۔
ملبے کو ہٹانے اور پھر اسی محلے کے دیگر کمزور ڈھانچے کو منہدم کرنے کے لئے آپریشن کی تکمیل کے متوقع وقت کے بارے میں حکام کی طرف سے دوبارہ کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
علاقہ کے لوگوں اور قانون سازوں، جن میں زیادہ تر کا تعلق سندھ کی اپوزیشن جماعتوں سے ہے، نے دعوٰی کیا تھا کہ اس عمارت کے گرنے کے وقت 27 افراد عمارت کے اندر موجود تھے اور وہ اس واقعے کے بعد لاپتہ ہیں۔
علاقہ مکین کا کہنا تھا کہ ’لوکل انتظامیہ اور دیگر تمام متعلقہ حکام اس سے بخوبی واقف ہیں، ناقص انتظامات اور تنگ گلیوں کی وجہ سے کام مشکل ہوگیا ہے‘۔
سندھ پولیس سرجن کے دفتر نے اب تک 17 لاشوں کی شناخت کی جس میں 50 سالہ فہمیدہ ، 32 سالہ فہیم، 35 سالہ سلمیٰ، 45 سالہ جمیلہ، 35 سالہ سراج، 30 سالہ نور محمد عرف بابو، 50 سالہ شاہد، 30 سالہ مریم، 11 سالہ شہناز، 45 سالہ میمونہ، 25 سالہ شہزاد، 20 سالہ سعید، 26 سالہ توفیق، 55 سالہ بہار، 25 سالہ کلیم احمد، 60 سالہ سلیم عرف ثانی، اور 30 سالہ شوکت شامل ہیں۔
کمشنر کراچی کے دفتر میں ہونے والے اجلاس میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف شہر بھر میں مقدمات درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیر اطلاعات و بلدیات سید سید ناصر حسین شاہ نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کسی کو بھی شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دے گی اور کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے سربراہ نسیم الثانی سے مطالبہ کیا کہ وہ شہر میں غیر قانونی عمارتوں کی نشاندہی کریں اور متعلقہ بلڈرز کے خلاف ایف آئی آر درج کریں۔
’کمشنر کراچی نے وزیر کو بتایا کہ ایس بی سی اے نے خطرناک عمارتوں کے رہائشیوں کو فوری انخلا کے لیے نوٹس جاری کیا ہے اور ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے نے وزیر کو بتایا کہ زیادہ تر خطرناک عمارتیں اولڈ سٹی ایریا میں ہیں اور ان میں سے کچھ کو قومی ورثہ قرار دیا گیا ہے‘۔
وزیر نے تمام اضلاع کی نگرانی ٹیموں کو اپنے علاقے میں خطرناک اور غیر قانونی عمارتوں کی نشاندہی کرنے کا حکم دیا۔
کمیٹی میں ضلعی میونسپل کارپوریشنز، ایس بی سی اے، کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور پولیس کے افسران شامل ہوں گے۔
3 روز قبل کراچی کے علاقے لیاری میں 5 منزلہ رہائشی عمارت منہدم ہونے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
عمارت لیاری کے علاقے نیا آباد کی لیاقت کالونی میں کھوکھر کچن والی گلی میں منہدم ہوئی۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے ترجمان علی مہدی کاظمی کے مطابق لیاری میں منہدم ہونے والی عمارت خطرناک قرار دی گئیں عمارتوں میں شامل تھی لیکن اس کے باوجود عمارت کو مسمار نہیں کیا گیا۔
ایس بی سی اے حکام نے عمارت خالی کرنے کے لیے 6 ماہ قبل ہی نوٹسز بھی جاری کیے تھے اور 2 ماہ قبل بجلی اور گیس کنکشن منقطع کرنے کی بھی سفارش کی گئی تھی لیکن انتظامیہ کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
رواں برس مارچ میں کراچی کے علاقے گلبہار میں رہائشی عمارت منہدم ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں 27 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

کے الیکٹرک نے نیپرا کی عوامی سماعت کے بعد شہریوں کو مزید تنگ کرنا شروع کردیا

کے الیکٹرک نے نیپرا کی عوامی سماعت کے بعد شہریوں کو مزید تنگ کرنا شروع کردیا

کراچی: کے الیکٹرک نے شدید گرمی کے موسم میں بھی شہرکے متعدد علاقوں میں 3 …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے