کرونا ویکسین انجیکشن کی صورت میں آئے تو زیادہ سود مند ثابت ہوگی

کرونا ویکسین انجیکشن کی صورت میں آئے تو زیادہ سود مند ثابت ہوگی

کراچی: عام طور پر ویکسین کے ٹرائل تین مراحل میں کیے جاتے ہیں، جس کے لیے 12 سے اٹھارہ ماہ درکار ہوتا ہے، آکسفورڈ کے ماہرین ستمبر یا اکتوبر تک ویکسین لانے کے لیے کوشاں ہیں

ڈاکٹر عطا الرحمان نے بتایا کہ ’اس وقت دنیا کی 100 سے زائد کمپنیاں ویکسین کی تیاری میں مصروف ہیں‘۔
ہ ’آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین ہنگامی حالات کے تحت اقدامات کر رہے ہیں، اگر اسی طرح کام جاری رہا تو آئندہ سال ستمبر تک کرونا وائرس کی ویکسین مارکیٹ میں متعارف ہوسکتی ہے‘۔
ڈاکٹر عطا الرحمان کا کہنا تھا کہ ’ آئندہ چھ ماہ میں ویکسین کا آنا مشکل ہے، اور یہ ضروری نہیں کہ جو ویکسین آئے وہ کامیاب ہو یعنی 100 فیصد نتائج دے کیونکہ ہر ویکسین کامیاب نہیں ہوتی‘۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر عطا الرحمان نے بتایا کہ انجیکشن کے ذریعے ویکسین لگانے کے نتائج اچھے آتے ہیں، اگر منہ کے ذریعے (ان ہیل) جیسے دمے کی دوا دی جاتی ہے ویسے ویکسین دی گئی تب بھی یہ فائدہ تو دے گی مگر فرق واضح ہوگا۔
منہ سے ذریعے اگر ویکسین دی گئی تو یہ سیدھا پھیپھڑوں میں جائے گی اور پھر وہاں سے خون میں شامل ہوکر جسم میں پھیل کر اپنا کام کرے گی جبکہ اگر انجیکشن سے دی گئی تو یہ براہ راست خون میں شامل ہو کر اپنا کام تیزی دے دکھائے گی’۔
پاکستانی محقق نے بتایا کہ ’اگر برطانوی کمپنی نے ان ہیل کرنے والی ویکسین تیار کی تو اُس کے لیے بھی ٹرائل کے تینوں مراحل مکمل کرنے کے بعد فوڈ اینڈ ڈرگز ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) سے منظوری درکار ہوگی‘۔

یہ بھی پڑھیں

ضلع مٹیاری کے 2 کالجز کے 8 اسٹاف ممبران میں کرونا کی تشخیص

ضلع مٹیاری کے 2 کالجز کے 8 اسٹاف ممبران میں کرونا کی تشخیص

کراچی: وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے