اسکاٹ لینڈ کے حکام برطانیہ سے علیحدگی کے لئے تیار

اسکاٹ لینڈ کی فرسٹ وزیر نیکلا اسٹورجن نے مقامی پارلیمنٹ میں برطانیہ سے اسکاٹ لینڈ کی علیحدگی کے لئے ریفرنڈم سے متعلق بل کی منظوری کے بعد کہا کہ اسکاٹ لینڈ کو اس بات کی اجازت ملنی چاہئے کہ وہ یورپی یونین سے برطانیہ کے باقاعدہ نکلنے سے پہلے اپنی تقدیر کے بارے میں خود کوئی فیصلہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت کو اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ کے فیصلے کا احترام کرنا چاہئے، اس درمیان اسکاٹ لینڈ کے باشندوں نے اڈینبرگ شہر میں ایک اجتماع کر کے برطانیہ سے اسکاٹ لینڈ کی علیحدگی کا مطالبہ کیا۔

اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ کی جانب سے اس بل کی منظوری کے بعد کہ اسکاٹ لینڈ کی برطانیہ سے علیحدگی کے تعلق سے ریفرنڈم کرایا جائے، اسکاٹ لینڈ کے دارالحکومت اڈینبرگ میں بڑی تعداد میں لوگوں نے اجتماع کر کے برطانیہ سے اسکاٹ لینڈ کی علیحدگی کا مطالبہ کیا۔

اجتماع میں شریک لوگ اسکاٹ لینڈ اور یورپی یونین کا پرچم اٹھائے ہوئے تھے اور وہ برطانیہ سے اسکاٹ لینڈ کی علیحدگی کے حق میں اور برگزیٹ کی مخالفت میں نعرے لگا رہے تھے۔

برطانیہ سے علیحدگی کے لئے دوبارہ ریفرنڈم کے لئے اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ کی جانب سے بل کی منظوری کے بعد یورو اور ڈالر کے مقابلے میں پونڈ کی قدر میں بھی کمی آگئی ہے۔

اسکاٹ لینڈ کے عوام نے اگرچہ نے دو ہزار چودہ میں برطانیہ سے اسکاٹ لینڈ کی علیحدگی کے لئے ہونے والے ریفرنڈم میں برطانیہ کے ساتھ ملحق رہنے کے حق میں ووٹ دیا تھا لیکن ساتھ ہی ان کی یہ بھی کوشش رہی کہ برطانیہ، یورپی یونین میں بھی باقی رہے اور اسکاٹ لینڈ کی اکثریت نے برگزیٹ کے بارے میں ہوئے ریفرنڈم میں یورپی یونین میں برطانیہ کے باقی رہنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

یاد رہے کہ برطانوی وزیراعظم تھریسا مئے نے یورپی کونسل کے سربراہ کے نام اپنے خط میں کہا ہے کہ وہ لیسبن معاہدے کی شق نمبر پچاس پر عمل درآمد کریں اور یورپی یونین سے برطانیہ کی باضابطہ علیحدگی کے لئے مذاکراتی عمل شروع کریں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو، جو یورپی یونین سے نکلنے والا پہلا ملک بننے جا رہا ہے، بہت ہی طولانی اور پیچیدہ راستہ درپیش ہے اور برگزیٹ نے برطانیہ کے سیاسی، اقتصادی اور سماجی ماحول میں ایک مبہم صورت حال پیدا کر دی ہے۔

انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ، ولزاور شمالی آئرلینڈ پر مشتمل برطانیہ کے اکیاون اعشاریہ نو فیصد عوام نے گذشتہ برس یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا تھا لیکن ووٹوں کو الگ الگ کرنے سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ انگلینڈ اور ولز کے بیشتر باشندوں نے یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا تھا تاہم اسکاٹ لینڈ کے باسٹھ فیصد اور شمالی آئرلینڈ کے چھپن فیصد باشندوں نے برگزیٹ کی مخالفت میں ووٹ دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

ہلسنکی میں یورپی ملکوں کے وزرائے خزانہ کا اجلاس

ہلسنکی میں یورپی ملکوں کے وزرائے خزانہ کا اجلاس

یورپی یونین کے وزرائےخزانہ نے یونین کے مالی قوانین کو آسان بنانے کی راہوں کاجائزہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے