بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے عہدیداروں کے ساتھ ریونیو اہداف شیئر

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے عہدیداروں کے ساتھ ریونیو اہداف شیئر

اسلام آباد: ریونیو کے منصوبے پر آئی ایم ایف کی منظوری میں تاخیر ہوئی ہے اور اس معاملے کو جون کے تیسرے ہفتے میں طے شدہ میٹنگ کے دوران اٹھایا جائے گا

فنانس ڈویژن کے ذرائع نے پیر کو بتایا کہ حکومت منظوری کے حصول کے لیے فنڈ حکام کے ساتھ پہلے ہی اپنی ریونیو وصول کرنے کی تجاویز کو شیئر کر چکی ہے۔
محصولات کی وصولی کے منصوبے کے بارے میں ہم نے آئی ایم ایف کے عہدیداروں سے تفصیلی ملاقات کی‘۔

آئی ایم ایف نے سال 2020-21 کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ریونیو اکٹھا کرنے کا ہدف 51 کھرب روپے مقرر کیا ہے جو مالی سال 2020 کے مجوزہ وصولی اہداف سے 30 فیصد زیادہ ہے۔
ہم نے اپنا حساب کتاب آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کیا ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے اہداف کی منظوری ابھی باقی ہے۔
آئی ایم ایف نے کورونا وائرس کی وجہ سے کاروبار پر پڑنے والے اثرات کی وجہ سے ایف بی آر کے ٹیکس ہدف کو 48 کھرب روپے سے کم کرکے 39 کھرب روپے تک کیا ہے۔
حکومت معیشت پر لاک ڈاؤن کے اثرات کو مد نظر رکھتے ہوئے بجٹ میں اپنے محصولاتی ہدف کا اعلان کرے گی۔
’ہم نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا ہے کہ حکومت بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کرسکتی کیونکہ لوگ کورونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے نئے ٹیکس اقدامات کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں‘۔
آئی ایم ایف کے عہدیداروں اور حکومت نے گزشتہ سال متعارف کرائے گئے بڑے ٹیکس اقدامات کے تسلسل پر ایک سمجھوتہ کیا ہے۔
آئی ایم ایف نے حکومت سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ امیر لوگوں کو ٹیکس مراعات دینے سے گریز کرے۔
آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ پاکستان صرف ان شعبوں کو مراعات دینے پر توجہ دے جس میں کمزور اور غریب عوام کو فائدہ ہو۔
ہم نے ان مقاصد کے لیے کچھ شعبوں کی نشاندہی کی ہے، آئی ایم ایف عام ٹیکس مراعات کے منافی ہے‘۔
آئی ایم ایف نے اسلام آباد سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ برآمدات پر مبنی پانچ شعبوں یعنی ٹیکسٹائل، کھیلوں، سرجیکل، قالین اور چمڑے کے لیے متعارف کرائے گئے موجودہ ٹیکس نظام کو جاری رکھے۔
بجٹ میں کسی بھی زیرو ریٹنگ پر غور نہیں کیا جائے گا اور 17 فیصد کے معیاری سیلز ٹیکس کی شرح میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی‘۔
بجٹ میں آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس قوانین، طریقہ کار کو آسان کرنے پر توجہ دی جائے گی جبکہ دیگر اقدامات میں انتظامی تبدیلیاں شامل ہیں۔
ایف بی آر کا تخمینہ ہے کہ جزوی طور پر لاک ڈاون باقی رہنے کی صورت میں آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں 450 ارب روپے کے محصولاتی نقصان کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں

عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے والے افسران کی نشاندہی کریں

عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے والے افسران کی نشاندہی کریں

اسلام آباد: چار سال سے لاپتہ آئی ٹی انجئنیر ساجد محمود کی بازیابی کے لیے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے