تہران ماسکو تعلقات کسی بھی ملک کیخلاف نہیں، دونوں ممالک خطے میں امن و استحکام کے خواہاں ہیں، ڈاکٹر حسن روحانی

ماسکو: اسلامی جمہوری ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے منگل کی شام ماسکو میں روسی صدر ولادی میر پوتن سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک خطے میں امن و استحکام کے خواہاں ہیں اور تہران ماسکو تعلقات کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہیں۔ انہوں نے ایران اور روس کے درمیان تعاون کے فروغ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تہران اور ماسکو عالمی دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے میدان میں ایک دوسرے کے ساتھ بہترین تعاون کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے امید ظاہر کی کہ دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں باہمی ترقی کی جانب اچھے قدم اٹھائے جائیں گے۔ روس کے صدر ولادی میر پوتن نے اس موقع پر کہا کہ ایران ہمارا بہترین ہمسایہ اور مستحکم و قابل اطمینان شریک ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس اور ایران کے سفارتی تعلقات بہت قدیم ہیں اور ان تعلقات کی تاریخ پانچ سو سال پہلے سے جا ملتی ہے۔ ولادیمیر پوتن نے تاکید کی کہ ماسکو اور تہران تمام شعبوں خاص طور پر علاقائی اور عالمی مسائل کے حل میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ روس کے صدر نے گذشتہ سال دو ہزا سولہ کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی لین دین میں 70 فی اضافے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیشرفت دنیا کی پیچیدہ اقتصادی صورتحال میں حاصل میں ہوئی ہے۔ ڈاکٹر حسن روحانی اور ولادیمیر پوتن کے درمیان ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے چودہ سمجھوں  پر دستخط بھی کئے گے۔

ادھر ایران اور روس کے صدور نے اپنے مشترکہ بیان میں دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ماسکو میں ڈاکٹر حسن روحانی اور ولادیمیر پوتن کے درمیان ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اور روس باہمی دلچسپی کے معاملات اور علاقائی مسائل کے حل کے سلسلے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔ بیان میں ایران اور ورس کے درمیان تجارتی اور صنعتی تعاون کے چار سالہ نقشہ راہ پر عملدرآمد کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ مشترکہ بیان میں شام کی ارضی سالمیت، اقتدار اعلٰی اور قومی یکجہتی کے احترام پر بھی زور اور دہشت گردی کے مقابلے میں شامی حکومت، فوج اور عوامی رضاکار فورس کے اقدامات کی ٹھوس حمایت کا اعلان کیا گیا ہے۔

ایران اور روس کے مشترکہ بیان میں یمن کی تباہ کن جنگ پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بحران یمن کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ ایرانی صدر اپنے روسی ہم منصب صدر ولادیمیر پوتن کی دعوت پر ایک اعلٰی سطحی سیاسی اور اقتصادی وفد کے ہمراہ پیر کی شام ماسکو پہنچے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

امریکا جیسا ملک اپنے اتحادی ملک ترکی کو مزید نقصان نہیں پہنچانے چاہے گا

انقرہ: ترک صدر نے روسی ہتھیار خریدنے کے بعد سے امریکا اور ترکی کے مابین …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے