کورونا وائرس اپنے ہی بنائے ہوئے ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والے دس عالمی رہنما

برطانیہ: جن لوگوں نے سماجی دوری کے لیے کیے گئے اقدامات کی پاسداری نہیں کی انھیں بھاری جرمانے کا سامنا رہا مگر بعض سیاسی رہنماؤں، سائنسدانوں اور مشیروں نے، جنھوں نے یہ ضابطے بنائے تھے، خود ان کی دھجیاں اڑائیں

ہم یہاں دس مشہور شخصیات کی بات کریں گے، جن پر ان ضوابط کی خلاف ورزیوں کا الزام ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ

کورونا وائرس سے عالمی سطح پر ہونے والی 30 فیصد ہلاکتیں صرف امریکا میں ہوئیں۔
اپریل کے پہلے ہفتے میں امریکا کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے سفارش کی کہ کورونا وائرس سے مقابلے کے لیے تمام امریکی شہری عوامی مقامات پر ماسک پہن کر جائیں۔
صدر ٹرمپ نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’میں خود نہیں پہننا چاہتا۔‘
انھوں نے کہا کہ وہ ایوان صدر میں خود کو ماسک پہن کر عالمی رہنماؤں کا خیرمقدم کرتے نہیں دیکھ سکتے مگر بعض ریاستوں، مثلاً مشیگن نے عوامی مقامات پر ماسک کو لازمی قرار دیا۔
21 مئی کو صدر وہاں ایک فورڈ پلانٹ دیکھنے گئے جسے وینٹیلیٹرز بنانے کی فیکٹری میں بدل دیا گیا تھا۔ پلانٹ کے حکام نے، جو انھیں معائنہ کروا رہے تھے، ماسک پہنے ہوئے تھے مگر صدر ٹرمپ نے صاف انکار کر دیا تھا۔
رپورٹرز کے بار بار پوچھنے پر ان کا جواب تھا کہ انھوں نے کیمرے کی آنکھ بچا کر ایک ماسک پہنا تھا۔
انھوں نے کہا: ’میں نہیں چاہتا کہ پریس مجھے ماسک پہنے دیکھ کر خوش ہو۔ ویسے میرے خیال میں ماسک پہنے میں زیادہ اچھا لگ رہا تھا۔
ریاستی اٹارنی جنرل کو ان کی یہ بات بالکل اچھی نہیں لگی اور انھوں نے صدر کو اس بد دماغ بچے سے تشبیہ دی جو ضوابط پر عمل کرنے سے انکار کرتا ہے۔
البتہ خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے ایک ویڈیو ریلیز کی جس میں عوامی مقامات پر ماسک پہننے پر زور دیا گیا تھا۔ انھوں نے ماسک پہنے اپنی ایک تصویر بھی شیئر کی۔
کووِڈ 19 سے امریکا میں ہونے والی ہلاکتیں ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہیں۔

ولادمیر پوتن

روسی صدر نے عوام کے سامنے خود کو ایک باعمل شخصیت کے طور پر پیش کرنے پر خاصا کام کیا ہے۔ 24 مارچ کو جب وبا بڑی حد تک پھیل چکی تھی تو پوتن نے اس سے نمٹنے کی اپنی تیاری کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک ہسپتال کا دورہ کیا۔
معائنے کے دوران انھوں نے مضر صحت مواد سے بچاؤ کا لباس پہن رکھا تھا مگر ڈاکٹروں سے ملاقات کے دوران ان کے پاس کسی طرح کا حفاظتی ساز و سامان نہیں تھا۔
یہ خطرناک رویہ تھا۔ انھوں نے چیف ڈاکٹر ڈینِس پروسنکو سے ہاتھ بھی ملایا، جن میں بعد میں کورونا وائرس پایا گیا۔ جس کے نتیجے میں صدر پوتن کی صحت کے بارے میں بھی بہت سی قیاس آرائیاں ہوئیں۔
اس کے بعد سے وہ عوام سے دور رہنے لگے ہیں اور اپنی رہائش گاہ سے ہی اجلاسوں میں شریک ہوتے ہیں۔ البتہ مئی میں وہ دو مواقع پر نظر آئے، جس میں سے ایک جنگ عظیم دوئم کی یاد منانے کی تقریب تھی۔
روس میں اب تک 431,715 افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 5,200 سے زیادہ ہے۔

بنیامن نتن یاہو

اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو اور صدر ریووِن رِولِن کو اس وقت سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انھوں نے یہودی عید یا ’پاس اوور‘ کے موقع پر اپنے بالغ بچوں کی دعوت کی حالانکہ چند روز قبل انھوں نے دوسروں کو ایسا کرنے سے منع کیا تھا۔
پاس اوور شروع ہونے سے پہلے نتن یاہو نے ملک میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا تھا اور عوام کو ضیافتیں نہ کرنے کی تلقین کی تھی تاکہ معمر افراد کو وبا کے خطرے سے دور رکھا جا سکے۔
مگر پاس اوور کے موقع پر ایک تصویر میں وہ اپنے بیٹے کو مدعو کرتے نظر آئے۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے قریبی ذرائع نے یہ کہتے ہوئے ان کا دفاع کیا کہ ان کا بیٹا قریب ہی رہتا ہے اور وزیراعظم ہاؤس میں کئی گھنٹے گزار چکا تھا۔مگر اس وضاحت پر اسرائیلی پریس نے کئی سوالات اٹھائے۔
ملک کے صدر ریووِن رِولِن کو بھی اپنی بالغ بیٹیوں کو مدعو کرنے پر ایسی ہی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ صدر نے بعد میں اپنے کیے پر معافی مانگ لی۔

عقیدے کی سیاست

انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے 24 مارچ کو دنیا کے سب سے بڑے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا اور 1.35 ارب لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی لگا دی۔ عبادت گاہیں بند کر دی گئیں۔
اپنے گھروں سے دور دوسرے شہروں میں کام کرتے لاکھوں مزدور اس سے متاثر ہوئے اور بہت سے لوگوں کو گھروں تک پہنچنے کے لیے سینکڑوں کلو میٹر تک پیدل چلنا پڑا، جن میں سے کئی سو راستے میں دم توڑ گئے۔
مگر مشہور انڈین سیاستدان یوگی ادِتیا نے پہلے ہی روز لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کر ڈالی۔ اتر پردیش کے وزیر اعلٰی نے ایودھیا میں متنازع مندر کی تعمیر سے متعلق ایک مذہبی تقریب میں اپنی شرکت کی تصاویر پوسٹ کیں۔
ایک ماہ بعد جب ان کے والد کا انتقال ہوا تو یوگی نے اپنی والدہ اور رشتہ داروں سے کہا کہ آخری رسومات میں شریک ہوتے وقت وہ لاک ڈاؤن پر عمل کریں مگر وہ خود شریک نہیں ہوئے۔

وزیر کی عوام سے معافی

جنوبی افریقہ میں صدر سرِل رامافوسا نے وزیر مواصلات سٹیلا ڈابینی ابراہمس کو اس وقت معافی مانگنے کا حکم دیا جب انھوں نے گھر پر رہنے کے احکامات کی خلاف ورزی کی۔ انھیں دو ماہ کے لیے خصوصی رخصت پر بھیجا گیا تھا۔
انھیں ایک سابق نائب وزیر کے گھر پر پانچ دوسرے افراد کے ساتھ کھانا کھاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
سٹیلا نے بعد میں معذرت مانگتے ہوئے کہا: ’مجھے اس واقعہ پر افسوس ہے اور اپنے کیے پر پچھتاوا ہے۔ مجھے توقع ہے کہ صدر اور جنوبی افریقہ کے عوام کشادہ دلی سے مجھے معاف کر دیں گے۔‘
کہا جاتا ہے کہ صدر نے انھیں صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ’کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں۔

خلاف ورزی پر جرمانہ

ملائشیا کے نائب وزیر صحت پر نقل و حرکت پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانہ عائد کیا گیا۔
ملائشیا نے وبا روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں جن میں جرمانہ بھی شامل ہے۔ ہزاروں افراد کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔

متضاد مشورے

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کئی روز انتہائی نگہداشت کے شعبے میں گزارنے کے بعد کووڈ 19 سے صحتیاب ہو گئے۔
ہسپتال میں داخلے سے پہلے انھوں نے لوگوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ نتیجتاً بہت سے لوگوں کو شادی، تدفین اور ایسی ہی دوسری تقریبات مؤخر کرنا پڑیں۔
پروفیسر نیل فرگوسن کو، جن کے مشورے پر وزیراعظم نے برطانیہ میں لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا، ہنگامی حالت سے نمٹنے کے سرکاری مشاورتی گروپ میں اپنے عہدے سے یہ کہہ کر مستفعی ہونا پڑا کہ ’یہ سمجھ کی بھول تھی۔
ایک اخبار کے مطابق ایک عورت، جس سے ان کے تعلقات تھے، لاک ڈاؤن کے دوران ان کے گھر گئی تھی۔
پروفیسر فرگوسن کا کہنا ہے کہ سماجی فاصلوں سے متعلق پیغام کا اثر زائل کرنے کی حرکت پر انھیں افسوس ہے۔
برطانیہ میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کے وہ اکیلے مرتکب نہیں تھے۔ سکاٹ لینڈ کی چیف میڈیکل آفیسر کو بھی لاک ڈاؤن کے دوران دو مرتبہ اپنے دوسرے گھر جانے پر مستعفی ہونا پڑا۔
ڈاکٹر کیتھرین کیلڈرووڈ نے ابتدا میں معافی مانگ لی تھی اور مستعفی ہونے کا کوئی ارادہ نہ تھا مگر پریس اور عوام کے دباؤ کی وجہ سے انھیں اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔
البتہ کورونا وائرس سے متعلق ایک اور سرکاری عہدیدار ابھی تک اپنے عہدے سے چمٹے ہوئے ہیں۔
جب خبر آئی کہ برطانوی وزیراعظم کے قریبی ساتھی اور مشیر ڈومینِک کمِنگز لندن سے 260 میل کا سفر کر کے شمالی انگلستان کے علاقے ڈرہم میں واقع اپنے گھر گئے ہیں تو وزیراعظم کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
کمنگز نے یہ کہہ کر عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا کہ انھوں نے کسی ضابطے کی خلاف ورزی نہیں کی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ان کا عمل ضوابط کی معمولی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتا ہے مگر لگتا ہے کہ اپنے باس کی پشت پناہی کے پیش نظر وہ عہدہ نہیں چھوڑیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

مختلف شہروں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان

مختلف شہروں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان

ریاض: سعودی محکمہ موسمیات نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ریاض، مدینہ منورہ، بریدہ، نجران، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے