کورونا وبا کی صورت حال میں ہمیں اپنے رویے تبدیل کرنا ہوں گے

کورونا وبا کی صورت حال میں ہمیں اپنے رویے تبدیل کرنا ہوں گے

اسلام آباد: ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ حکومت ہفتہ وار بنیادوں پر 450 سے زائد ہسپتالوں کو پرسنل پروٹیکٹو ایکوئپمنٹ (پی پی ای) فراہم کررہی ہے

اب شکایات ہیں کہ پی پی ایز کا معیار اچھا نہیں یا فراہم نہیں کی گئیں، ہم نے اس کا جائزہ لیا ہے اور ایک مسئلہ یہ ہے کہ ہسپتال، حکومت کی جانب سے دیے گئے وسائل تقسیم نہیں کررہے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ دوسری وجہ وسائل کا غیر معقول استعمال ہے۔
ایک ہسپتال نے بتایا کہ انہیں پی پی ایز خاص طور پر این-95 ماسک وصول نہیں ہورہے جب میں اجلاس سے باہر آیا ت گارڈ نے این-95 ماسک پہنا ہوا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ہسپتالوں میں چوکیدار این 95 ماسک استعمال کررہے تھے جبکہ ڈاکٹرز ہسپتال کے اندر شور مچارہے تھے۔
نیشنل کمانڈ اینڈ سینٹر میں بنائی جانے والی ہماری پہلی اسٹیٹجی یہ ہے کہ مخصوص، غیر متعین اور غیر معینہ مدت کے لیے لاک ڈاؤن کہیں بھی حل نہیں ہے، یہاں تک کہ ایسے علاقوں میں بھی کامیاب نہیں جہاں معیشت کی صورت حال بہت اچھی ہے جبکہ ہماری معاشی صورت حال اس وقت بہت خراب ہے۔
سوال یہ سامنے آتا ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟ اس حوالے سے دو مختلف قسم کی آرا موجود ہیں، پہلی یہ کہ ہم نے اپنے رویے میں تبدیلی کرنی ہے اور ایسے رویوں کو اوپر لانا ہے جس کی مدد سے اس وائرس کے خلاف مؤثر اقدمات کیے جاسکیں، یعنی ہمیں ایس او پیز پر عمل درآمد کروانا ہے۔
ایس او پیز پر زندگی کے ہر شعبے اور ہر کام میں عمل درآمد کروانا ضروری ہیں، جو ایک رویہ ہے اور رویوں میں تبدیلی بھی ایک سائنس ہے جو کسی قانون یا سختی کے ذریعے عمل میں نہیں لائی جاسکتی، ان کا کہنا تھا کہ رویوں میں تبدیلی پہلے آپ کے ذہن میں آتی ہے اس کے بعد وہ پالیسی بنتی ہے اور بعد میں اس پر عمل درآمد کروایا جاتا ہے۔
ان رویوں کی تبدیلی سے ہمارا مقصد ہے کہ ہم وائرس کے ساتھ زندگی گزارنا شروع کریں، جس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں معلوم نہیں کہ یہ کب تک چلے گا یہ طویل مدت کے لیے بھی ہوسکتا ہے۔
ہم مخصوص علاقوں میں لاک ڈاؤن کریں، متاثرین سے رابطوں میں آنے والوں کی نشاندہی کریں اور متاثرین کے ساتھ رہنے اور ان سے رابطوں میں آنے والوں کی نشاندہی کے بعد ان کے ٹیسٹ کریں اور اگر ان میں سے کسی کا ٹیسٹ مثبت آتا ہے تو انہیں قرنطینہ میں منتقل کریں، ان کا کہنا تھا کہ اس عمل کا نام ٹی ٹی کیو ہے جس سے مراد نشاندہی کرنا، ٹیسٹ کرنا اور پھر قرنطینہ کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ 3 روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے

ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ 3 روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے

اسلام آباد: عبدالرزاق داؤد، افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندہ محمد صادق، افغانستان میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے