طالبان سے جنگ بندی افغان حکام نے سیکڑوں مزید طالبان قیدیوں کو رہا کردیا

طالبان سے جنگ بندی افغان حکام نے سیکڑوں مزید طالبان قیدیوں کو رہا کردیا

بگرام: کشیدگی میں یہ وقفہ تقریبا 19 سال کی جنگ میں دوسری مرتبہ سامنے آیا ہے جو پورے افغانستان میں عمل میں آیا اور اس کی وجہ سے کشیدگی کی زد میں آنے والوں کو کچھ مہلت ملی ہے

حکام نے بتایا کہ افغانستان بھر سے تقریباً 900 قیدیوں کو رہا کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، ان میں سے تقریباً 600 قیدیوں کا تعلق کابل کے قریب بدنام زمانہ بگرام جیل سے ہے۔
افغان حکومت کی طرف سے یہ اقدام طالبان کی تین روزہ جنگ بندی کی پیش کش کے جواب میں 2 ہزار قیدیوں کو رہا کرنے کے معاہدے کا حصہ ہے۔
جنگ بندی کا آغاز اتوار کے روز عید الفطر کے موقع پر ہوا تھا۔
طالبان کے زیر اثر صوبہ قندھار سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ عبد الوصی نے کہا کہ جب وہ 8 سال قبل حراست میں لیے گئے تھے تو وہ ’دین کے لیے لڑنے والے جنگجو‘ تھے۔
آزادی حاصل کرنے کے بعد لمبی داڑھی روایتی شلوار قمیز پہنے عبدالوصی نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے کہا گیا تھا کہ غیر ملکی فوجیوں کو اپنے ملک سے نکالنے تک جہاد کرو‘۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکا طالبان معاہدے پر خوش ہیں جس سے تمام غیر ملکی افواج کا آئندہ سال مئی کے مہینے ت انخلا ہوسکے گا۔
انہوں نے کہا کہ وہ مستقل جنگ بندی چاہتے ہیں۔
قیدیوں نے تحریری طور پر لکھا ہے کہ وہ میدان جنگ میں لوٹ کر نہیں آئیں گے تاہم آزادی پانے والے ایک اور قیدی قاری محمد اللہ کا کہنا تھا کہ جب تک افغانستان میں غیر ملکی افواج ہیں تب تک وہ اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔
’ہم کسی غیر ملکی کو اپنی زمین پر رہنے کی اجازت نہیں دے سکتے، انہیں فوری طور پر یہاں سے جانا ہوگا‘۔ رہائی پانے والے ہر قیدی کو تقریباً 65 ڈالر کی رقم افغان کرنسی میں دی گئی۔
افغانستان کے قومی سلامری کونسل کے ترجمان جاوید فیصل کا کہنا تھا کہ رہائی پانے والے قیدیوں کی اصل تعداد قانونی کارروائی کیے جانے کے بعد جاری کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکام کو امید ہے کہ طالبان جنگ بندی میں توسیع کریں گے تاکہ امن مذاکرات آگے بڑھ سکیں۔
پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’اگر طالبان جنگ بندی میں توسیع کے لیے تیار ہیں تو ہم بھی اس کے لیے تیار ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں

الٹرا سپر سونک میزائل "ایون گارڈ" کیا ہے

الٹرا سپر سونک میزائل "ایون گارڈ” کیا ہے

روس: صدرپیوٹن کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے اینٹی بیلسٹک میزائل ٹریٹی کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے