لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی تو ملک بھر میں شراب کی دکانوں کے باہر لمبی قطاریں

لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی تو ملک بھر میں شراب کی دکانوں کے باہر لمبی قطاریں

ممبئی: ممبئی جیسے شہروں میں جو کورونا وائرس کا مرکز ہے وہاں شراب کے شوقین لوگوں نے سماجی دوری کے قواعد کی کھل کر دھجیاں اُڑائیں، جس سے حکومت کو دکانیں دوبارہ بند کرنی پڑیں۔ پولیس نے لاٹھی چارج کیا

پاگل پن کا شکار یہ ہجوم حیرت انگیز نہیں تھا کیونکہ سخت لاک ڈاؤن کی وجہ سے شراب کی مانگ بہت زیادہ تھی۔
دنیا بھر میں شراب کی فروخت میں اضافے کی اطلاعات ہیں۔
برطانیہ میں مارچ میں شراب کی فروخت میں پچھلے سال کے مقابلے 22 فیصد اضافہ ہوا ہے اور امریکہ میں پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 55 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
انڈیا میں شراب بیچنا کبھی آسان نہیں تھا۔ آن لائن فروخت اور گھر پر ڈیلیوری کی اجازت نہیں ہے۔ بہت سی ریاستی حکومتیں شراب کے خلاف ہوگئیں کیونکہ یہ ایک طرح کا ووٹ بینک ہے۔ شراب بنانے، اس کی قیمت، فروخت اور ٹیکسوں کو کنٹرول کرنے کے لیے 29 ریاستوں میں سے ہر ایک کی اپنی پالیسیاں ہیں۔
لندن کی تحقیقاتی کمپنی آئی ڈبلیو ایس آر ڈرِنکس مارکیٹ اینالیسز کے مطابق شراب کی کھپت کے معاملے میں انڈیا دنیا میں دوسرے نمبر اور چین پہلے نمبر پر ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ انڈیا میں 663 ملین لیٹر شراب پی جاتی ہے جو 2017 کے مقابلے گیارہ فیصد زیادہ ہے۔
انڈیا میں کسی بھی ملک کے مقابلے میں وسکی سب سے زیادہ پی جاتی ہے۔ امریکہ دوسرے نمبر پر ہے اور انڈیا میں امریکہ سے تین گنا زیادہ وسکی پی جاتی ہے۔ آپ ایسا کہہ لیں کہ دنیا میں بکنے والی وسکی کی ہر دو بوتلوں میں سے ایک انڈیا میں خریدی جاتی ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ انڈیا میں فروخت ہونے والی 45 فیصد شراب ملک کی پانچ جنوبی ریاستوں آندھرا پردیش، تلنگانا، تمل ناڈو، کرناٹک اور کیرالہ میں خریدی جاتی ہے اور ان حکومتوں کی دس فیصد سے زیادہ آمدنی شراب کی فروخت سے آتی ہے۔
اس کے بعد ریاست پنجاب، راجستھان، اتر پردیش، مغربی بنگال اور مہاراشٹر ہیں، جہاں حکومتوں کی کل آمدنیح کا 5 سے 10 فیصد شراب سے آتا ہے۔
اپریل کے مہینے میں شراب کی فروخت بند رہی اور لاک ڈاؤن کے سبب ریاستی حکومتوں کی یہ آمدنی بلکل بند ہو چکی تھی جس کے سبب وہ دیوالیہ ہونے کے نزدیک تھیں، اس لیے حکومتیں جلد از جلد اپنی آمدنی کا ذریعہ کھولنا چاہتی تھیں۔
انڈیا میں شراب کی کھپت میں اضافے کے پیچھے ایک تاریک پہلو ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے اندازے کے مطابق انڈیا میں گیارہ فیصد لوگ بہت زیادہ شراب پیتے ہیں جبکہ عالمی سطح پر ایسے لوگوں کی مجموعی تعداد سولہ فیصد ہے۔
تشویش کی بات یہ ہے کہ انڈیا میں ہر تیسرا شراب پینے والا سستی اور مقامی طور پر تیار کی جانے والی کچی شراب پیتا ہے جو کئی بار ملاوٹی ہوتی ہے اور زہریلی شراب سے ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 3 کروڑ لوگ ’نقصان دہ حد تک‘ شراب نوشی کرتے پیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق انڈیا میں پی جانے والی شراب میں آدھے سے زیادہ شراب غیر منظم طریقے سے مقامی طور پر بنائی جاتی ہے یعنی ریاست میں نہ تو ان کا ریکارڈ ہوتا ہے اور نہ ہی ٹیکس۔ ایک سروے کے مطابق زیادہ تر لوگ اس شراب کو ترجیح دیتے ہیں جو جعلی اور ممنوعہ ہے۔
حالیہ سروے کے مطابق 189 ممالک میں 1990 سے 2017 کے درمیان شراب کی کھپت میں اضافہ ہوا ہے اور انڈیا میں یہ اضافہ 38 فیصد ہے یعنی اب ایک بالغ شخص سالانہ چار اعشاریہ تین لیٹر سے بڑھ کر پانچ اعشاریہ نو لیٹر پی رہا ہے۔
سروے کے سربراہ اور جرمنی کی ٹیکنیش یونیورسٹی کے جیکب مانتھے کا کہنا ہے کہ اب لوگوں کی قوتِ خرید بڑھ چکی ہے اور شراب خریدنا بھی آسان ہو گیا ہے۔ جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ‘بیئر’ سستی ہوتی ہے اس لیے متوسط اور نچلے طبقے کے لوگوں کے لیے اسے خریدنا آسان ہے۔
جیکب مانتھے کا کہنا ہے کہ انڈیا میں شراب نوشی کے سبب سِروسسز جیسے جگر کے امراض اور امراضِ قلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انڈیا میں 2012 میں سڑک حادثے میں ہونے والی ہر تیسری موت کا سبب نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کرنا تھا اور نیشنل ہیلتھ سروے کی 2015 اور 2016 کی رپورٹ کے مطابق انڈیا میں دس فیصد بالغ مرد اس لت کے عادی تھے اور ملک میں شراب نوشی ایک اہم طبی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
شراب نوشی کو براہ راست گھریلو تشدد سے بھی جوڑا جاتا ہے۔
تجزیہ کار پرتاپ بھانو کا کہنا ہے کہ انتخاب کی آزادی پر پابندیوں کا نفاذ ہمیشہ شکست کا سبب بنا ہے اور اس سے کالا بازاری میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اگر ہمیں آزادی کی اتنی ہی پرواہ ہے تو ہمیں شراب کی اپنی ثقافی اور سیاسی لت کا محاسبہ کرنا ہوگا اور پھر اس پیچیدہ مسئلے کا کوئی دانشمندانہ حل تلاش کرنا ہوگا، جو آسان کام نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں

برطانیہ میں پندرہ جون سے دکانیں کھل جائیں گی

لندن: برطانوی حکومت نے ملک میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کردیا وزیراعظم بورس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے