متعدد ممالک میں بچوں کے سوزشی بیماری سے متاثر ہونے کے کیسز رپورٹ

متعدد ممالک میں بچوں کے سوزشی بیماری سے متاثر ہونے کے کیسز رپورٹ

نیویارک: عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسز نے ایک وِرچووَل بریفنگ میں بتایا کہ ابتدائی مفروضہ یہ ہے کہ یہ بیماری کووِڈ 19 سے تعلق رکھتی ہے

’اموات کو سمجھنے اور علاج کی وضاحت کے لیے احتیاط سے فوری طور پر اس بیماری کی خصوصیات جاننا نہایت اہم ہے‘۔
ڈبلیو ایچ او نے اس بیماری کی ابتدائی کیس تعریف تیار کی ہے جس میں سے ’بچوں میں ملٹی سسٹم انفلیمیٹری سینڈروم ان چلڈرن (ایم آئی ایس -سی)‘ کہا گیا ہے۔
ساتھ ہی دنیا بھر میں ڈاکٹروں کو ’اس بیماری کو بہتر طور پر سمجھنے اور تیار رہنے‘ کی ہدایت کی گئی ہے۔
عالمی ادارہ صحت ک سربراہ سے قبل فرانس کے ایک ڈاکٹر نے کہا تھا کہ کورونا وائرس سے متاثرہ 9 سالہ بچہ اس بیماری کے باعث ہلاک ہوا جو ملک میں اس طرح کی پہلی ہلاکت تھی، بچوں کی اسی طرح کی اموات کی نیویارک اور لندن میں بھی تحقیق کی جارہی ہے۔
لندن میں بچوں کے ہسپتال نے کہا کہ ایک 14 سالہ لڑکا جس کو صحت کے مسائل نہیں تھے وہ اس بیماری کی وجہ سے ہلاک ہوا اس اور اس میں کورنا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔
دوسری جانب نیویارک کے گورنر اینڈیرو کیومو نےکہا تھا کہ ریاست میں 3 بچے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 100 سے زائد کیسز کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کی ماہر ماریہ وین کرخوف نے ایک بریفنگ میں کہا تھا کہ اس بیماری سے کورونا وائرس کا تعلق ابھی ثابت نہیں ہوا ہے کیوں کہ اس بیماری میں مبتلا کچھ بچوں میں وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی۔
ڈبلیو ایچ او ایمرجنسیز کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ’اس چیز پر تمام ممالک کے متوجہ ہونے کی ضرورت ہے، اگر یہ بیماری کووِڈ 19 سے منسلک بھی ہے تو یہ اس کی وجہ سے نہیں ہورہی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ نہیں معلوم کہ یہ جو نایاب چیزیں ہورہی ہیں یہ وائرس سے براہ راست تعلق رکھتی ہیں یا یہ وائرس کے ردِ عمل میں مدافعت کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے اس بات کا بھی زور دیا کہ بچوں پر اثر انداز ہونے والی یہ بیماری ’بہت کمیاب‘ ہے اور صرف کووِڈ 19 کیسز کے بڑھتی تعداد کی وجہ سے سامنے آئی۔
خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ممکنہ طور پر بچوں میں پائی جانے والی یہی بیماری کورونا کی وجہ سے بچوں میں ہوئی ہوگی، اس بیماری سے متاثر بچے یا تو خود کم سطح پر کورونا کا شکار ہوئے ہوں گے یا پھر وہ ارد گرد میں کورونا کے مریضوں کے ہونے کی وجہ سے اس کا شکار ہوئے ہوں گے۔
نیویارک کے کوہن چلڈرن میڈیکل سینٹر کے ڈاکٹر سنیل سود کا کہنا تھا کہ انہوں نے اب تک جن بچوں کا علاج کیا ہے ان میں سے زیادہ تر کو دل کی سوزش کی شکایات تھیں.

یہ بھی پڑھیں

طالبان سے جنگ بندی افغان حکام نے سیکڑوں مزید طالبان قیدیوں کو رہا کردیا

طالبان سے جنگ بندی افغان حکام نے سیکڑوں مزید طالبان قیدیوں کو رہا کردیا

بگرام: کشیدگی میں یہ وقفہ تقریبا 19 سال کی جنگ میں دوسری مرتبہ سامنے آیا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے