تاریخ میں پہلی مرتبہ ترک صدر نے امریکہ کو بڑا جھٹکا دیدیا، ایسی دھمکی کہ نیا خطرہ پیدا ہو گیا

انقرہ : ترک صدر رجیب طیب اردوان نے امریکہ کے زیر استعمال فوجی اڈہ ”انجرل“ بند کرنے کی دھمکی دیدی ہے۔   ترک صدر نے امریکیوں اور مغربی دنیا کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شام کے حوالے سے نیٹو کے رکن ممالک کے درمیان گہرے اختلافات موجود ہونے کا انکشاف بھی کیا ۔ 
انہوں نے امریکی صدر باراک اوباما سے رابطہ کر کے ڈیموکریٹک یونین پارٹی کیلئے کسی بھی نئی سپورٹ سے خبردار کیا کیونکہ ترکی کا ماننا ہے کہ یہ جماعت شام میں کردوں کے تحفظ کیلئے قائم یونٹوں کا سیاسی ونگ ہے۔ ترکی اس جماعت پر کچھ عرصہ قبل انقرہ میں ہونے والے دھماکے میں ملوث ہونے کا الزام بھی لگا چکا ہے جس میں تقریباً 28 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 
دوسری جانب ڈیموکریٹک یونین پارٹی ترکی کے اس الزام کی تردید کر چکی ہے۔ پارٹی کے مطابق شمال میں اس کے یونٹوں کی پیش قدمی کے نتیجے میں انقرہ حکومت کو یہ خطرہ لاحق گیا ہے کہ ترکی میں کرد اقلیت علیحدگی کیلئے سر اٹھائے گی اور یہی وجہ ہے کہ شام کے شمال میں لڑائی کو پھیلانے کیلئے دھماکے میں ملوث ہونے کے الزام کو بہانہ بنایا جا رہا ہے۔ 
واضح رہے ”انجرل“ ہوائی اڈہ امریکہ کے زیر استعمال ہے اور اس کے ہوائی اڈے شام میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کیلئے یہیں سے پرواز کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

منامہ کانفرنس کی ناکامی پر امریکا کی جانب سے اعتراف

منامہ کانفرنس کی ناکامی پر امریکا کی جانب سے اعتراف

مغربی ایشیا میں نام نہاد قیام امن کے بارے میں امریکی صدر کے خصوصی ایلچی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے