شیخ عمر خراسانی‘‘ اپنے دو سینئر ساتھیوں سمیت کابل سے گرفتار

شیخ عمر خراسانی‘‘ اپنے دو سینئر ساتھیوں سمیت کابل سے گرفتار

کابل: افغانستان میں شدت پسندوں کا سب سے بڑا گروہ افغان طالبان کا ہے تاہم دولت اسلامیہ ملک کے چند علاقوں میں سرگرم ہے اور اس نے کابل میں متعدد بم حملے بھی کیے ہیں

اگر اس گرفتاری کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ ایک اہم پیشرفت ہوگی۔
حراست میں لیے جانے والے دیگر دو افراد میں خراسانی کے ترجمان صہیب اور انٹیلیجنس چیف ابو علی شامل ہیں۔
افغان انٹیلیجنس سروس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ آپریشن حال ہی میں دولت اسلامیہ کے گرفتار کیے گئے چار سینیئر اراکین سے حاصل کردہ معلومات اور سکیورٹی اور انٹیلیجنس کی اطلاعات پر کیا گیا تھا۔
افغانستان کی انٹیلیجنس کے ادارے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایجنسی علاقائی دہشت گرد گروہوں کے سینیئر رہنماؤں کی تلاش اور ان دہشت گرد نیٹ ورکس کے مشترکہ مراکز کو ختم کرنے کے لیے اپنی جامع اور ٹارگٹڈ کارروائیوں کو جاری رکھے گی۔‘
دولت اسلامیہ نے حالیہ برسوں میں افغانستان میں متعدد بم حملے کیے ہیں جس میں افغانستان کی شیعہ اور دیگر کو نشانہ بنایا گیا اور متعدد افراد ان میں ہلاک ہوئے۔
گذشتہ سال اقوام متحدہ کو پیش کی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ شیخ عمر خراسانی کو ان کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے اس گروپ کی مرکزی قیادت نے تبدیل کر دیا تھا لیکن اس کی کبھی تصدیق نہیں ہو سکی۔
یہ گرفتاریاں ایسے وقت ہوئی ہیں جب امریکہ اور طالبان کے درمیان فروری میں فوجیوں کے انخلا کے معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود ملک بھر میں پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
طالبان جو اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کا مخالف کہتے ہیں، انھوں نے معاہدے کے بعد سے بڑے پیمانے پر حملوں سے گریز کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

افغان جنگ کے خاتمے میں پاکستان کا اب پہلے سے زیادہ اہم کردار ہے

افغان جنگ کے خاتمے میں پاکستان کا اب پہلے سے زیادہ اہم کردار ہے

واشنگٹن: ولیم ای ٹوڈ، جنہیں رواں سال کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے