جو نقش ہائے جیدی نے چھوڑا، وہ ان کی ذات کا حصہ بن گیا

جو نقش ہائے جیدی نے چھوڑا، وہ ان کی ذات کا حصہ بن گیا

لاہور: پاکستان ٹیلی ویژن سنٹر لاہور میں ڈرامہ ‘مسٹر یس، نو اینڈ واٹ’ کی ریکارڈنگ جاری تھی، قوی خان اس کے مرکزی کردار اور تحریر اطہر شاہ کی تھی۔ قوی خان انھیں روزانہ گھر سے اپنی ویسپا سکوٹر پر پی ٹی وی سنٹر لاتے اور واپسی پر چھوڑ دیتے تھے

ایک روز قوی خان کی ویسپا خراب ہوگئی اور سڑک پر انھیں دیکھ کر لوگوں کا مجمع لگ گیا اور مداحوں نے ان کی بڑی پذیرائی کی جبکہ اس دوران اطہر شاہ ایک کونے میں کھڑے رہے۔ قوی خان نے مجمع کی توجہ ان کی جانب کروائی بھی کہ یہ ڈرامہ انھوں نے تحریر کیا ہے وہ تو اس کا محض ایک کردار ہیں لیکن مجمع نے ان کی بات سنی ان سنی کر دی۔
اس واقعے کے بعد انھوں نے ڈرامہ ‘انتظار فرمائیے’ تحریر کیا اور بطور جیدی اس میں انٹری لی جو ان کے نام کے ساتھ تاحیات بطور تخلص منسلک ہوگیا۔
وہ بڑا سا پائپ تو بہت سے ناظرین کو یاد ہوگا، جس میں لانگ کوٹ پہنے، چھوٹی سی ٹائی باندھے یہ شخص جلوہ گر ہوتا تھا۔
تاہم روزنامہ ڈان کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ سٹیشن مینیجر کے کہنے پر انھوں نے یہ کردار قبول کیا تھا۔ اس سیریل میں ان کے ساتھ معین اختر، شکیل یوسف بھی شامل تھے۔
اطہر شاہ برطانوی مزاحیہ اداکار سر نومن وزڈم اور امریکہ میں کنگ آف کامیڈی کے نام سے مشہور جیری لوئس سے متاثر تھے، یہ دونوں اداکاری کے ساتھ ساتھ لکھاری بھی تھے۔
اقبال لطیف کا کہنا ہے کہ جیدی کے کردار کی تخلیق میں ان دونوں کا مرکزی کردار تھا۔
پی ٹی وی کے پروگرام میں تو وہ مزاحیہ سے نظر آتے تھے یہاں بلکل ہی محتلف تھے انھوں نے اس پروگرام میں ایک سو روپ تبدیل کیے، 1973 کو ہم نے یہ پروگرام شروع کیا تھا جو ہر اتوار کو نشر ہوتا پاکستان ریڈیو کے تمام مراکز سے سنا جاتا نہ صرف پاکستان بلکہ انڈیا میں بھی مقبول تھا وہاں سے ہمیں خطوط آتے تھے۔’
بطور لکھاری، جیدی کے نام سے کئی فلمیں جڑی ہیں، ان کی پہلی فلم بازی، سپر ہٹ ثابت ہوئی، جس میں فلمسٹار ندیم اور محمد علی پہلی بار آمنے سامنے آئے اور اس میں اداکارہ نشو کو بھی متعارف کرایا گیا۔ جبکہ ان کی دیگر فلموں میں گونج اٹھی شہنائی، ماں بنی دلہن، منجی کتھے ڈھاواں شامل ہیں۔
ریڈیو پاکستان سے سفر کا آغاز کرنے والے اطہر علی شاہ عرف جیدی نے لگ بھگ بیس برسوں میں سات سو ڈرامے لکھے، 70 اور 80 کی دہائی میں پاکستان میں مزاح نگاری کی دنیا پر ان کا راج تھا۔ پی ٹی وی پر ان کے ڈرامے انتظار فرمائیے، با ادب باملاحظہ ہوشیار، لاکھوں میں تین، پہلے دیکھنے والوں کی زندگی اور پھر یادوں کا حصہ بن گئے۔
اطہر شاہ کی پیدائش رام پور کی تھی قیام پاکستان کے بعد وہ کراچی منتقل ہوئےاس کے بعد کام کاج کے لیے لاہور منتقل ہوگئے اور دوبارہ کراچی کا رخ کیا، جہاں وہ کچھ عرصہ فالج کا مقابلہ کرتے رہے اور جانبر نہ ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں

اداکار نواز الدین صدیقی کی اہلیہ نے اداکار پر سنگین الزامات عائد

اداکار نواز الدین صدیقی کی اہلیہ نے اداکار پر سنگین الزامات عائد

نوازالدین صدیقی کی اہلیہ عالیہ کے وکیل نے بتایا کہ نوازاں الدین کو ای میل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے