کوئٹہ میں دو درجن سے زائد صحافی اور میڈیا ورکرز کورونا وائرس سے متاثر ہوگئے

کوئٹہ میں دو درجن سے زائد صحافی اور میڈیا ورکرز کورونا وائرس سے متاثر ہوگئے

کوئٹہ: سرکاری رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز بلوچستان میں 82 کیسز کی تصدیق ہوئی تھی جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی تعدا 2 ہزار 17 ہوگئی تھی

صوبائی محکمہ صحت کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ نے کہا کہ کورونا وائرس کے 2 مریضوں کے انتقال کے بعد بلوچستان میں اموات کی مجموعی تعداد 24 ہوگئی۔
86 فیصد افراد مقامی سطح پر کورونا وائرس کا شکار ہوئے جبکہ ان افراد نے بیرون ملک سفر نہیں کیا تھا۔
وائرس سے متاثر ہونے والے میڈیا سے وابستہ افراد میں سینئر صحافی، بیورو چیفس، نجی ٹی وی چینلز کے کیمرامین اور میڈیا دفاتر کے مختلف حصوں میں فرائض انجام دینے والے ورکرز شامل ہیں۔
صحت حکام نے کہا کہ کوئٹہ پریس کلب میں 50 صحافیوں اور میڈیا ورکرز کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیا گیا تھا جن میں سے 27 کے ٹیسٹ مثبت آئے۔
عملے کے کچھ ارکان کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد 2 نجی چینلز کے بیورو دفاتر کو سیل بھی کردیا گیا۔
کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے سینئر صحافیوں میں ہم ٹی وی کے بیورو چیف اور بلوچستان یونین آف جرنلسٹس( بی یو جے) کے صدر ایوب ترین، دنیا ٹی وی کے بیورو چیف عرفان سعید، ایک خاتون رپورٹر اور دنیا ٹی وی کے عملے کے دیگر افراد شامل ہیں۔
جیو ٹی وی کے ایک سینئر رپورٹر اور انجینئر کا بھی کورونا ٹیسٹ مثبت آیا جبکہ نیو ٹی وی اور جی این این کے رپورٹرز، ڈرائیورز اور عملے کے دیگر افراد کو کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد آئسولیشن سینٹرز منتقل کردیا گیا۔
محکمہ صحت کے کچھ عہدیداروں کے مطابق میڈیا سے وابستہ کچھ افراد کے ٹیسٹ کے نتائج آنا باقی ہیں۔
3 مئی تک پاکستان بھر میں کم از کم 38 صحافیوں میں کورونا کی تصدیق ہوچکی تھی جب کہ 2 صحافی اس کے باعث زندگی کی بازی بھی ہار چکے تھے۔
اب تک پاکستان میں کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 30 ہزار 466 ہوگئی ہے جبکہ 662 افراد وائرس سے لقمہ اجل بنے ہیں۔
پاکستان میں سب سے زیادہ مریض سندھ، دوسرے نمبر پر پنجاب میں ہیں، مریضوں کے حوالے سے تیسرے نمبر پر خیبرپختونخوا ہے جبکہ چوتھے نمبر پر بلوچستان ہے۔

یہ بھی پڑھیں

شہریوں کا ناک اورمنہ ڈھانپنا لازمی قرار دے دیا گیا

شہریوں کا ناک اورمنہ ڈھانپنا لازمی قرار دے دیا گیا

کوئٹہ: حکومت بلوچستان لیاقت شاہوانی نے اپنے بیان میں کہا کہ شہریوں کا ناک اورمنہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے