گھر میں موجود ایسی ٖغذائیں ہیں جنہیں کھاکر مزاج کو خوشگوار بنایا جاسکتا ہے

گھر میں موجود ایسی ٖغذائیں ہیں جنہیں کھاکر مزاج کو خوشگوار بنایا جاسکتا ہے

ایسی غذاؤں کو سپر فوڈ بھی کہا جاتا ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ ہے مراقبہ، دعا ، بھرپور نیند اور کوئی ہلکی پھلکی جسمانی مشقت سے بھی مزاج کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے

گہری رنگت والی چاکلیٹ

گہری رنگت والی چاکلیٹ عام طور پر اپنی رنگت سے ہی پہنچانی جاتی ہے  ڈارک چاکلیٹ سیاہی مائل رنگت کی حامل ہوتی ہے جس میں کوکوا کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
لیکن ساتھ ہی ڈارک چاکلیٹ میں میگنیشیئم اور اینٹی آکسیڈںٹس کی بھرپور مقدار موجود ہوتی ہے۔ یہ دونوں اجزا مل کر دماغی تناؤ کو کم کرتے ہیں ۔ اینٹی آکسیڈنٹس خون کی رگوں کو کشادہ کرکے خون کی فروانی کو ممکن بناتے ہیں اور یوں جسم کے ہر حصے تک خون اور اکسیجن کی بھرپور مقدار پہنچتی ہے۔ اس طرح نفسیاتی اور دماغی طور پر سکون محسوس ہوتا ہے۔

کدو کے بیج

کدو یعنی پمپکن کے بیج بنیادی طور پر انہتائی مفید غذاؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ اس میں بھی میگنیشئم کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے جبکہ زنک کی بدولت دماغ کو سکون ملتا ہے اور اعصاب پر اچھا اثر پڑتا ہے۔
تمام غذائی ماہرین متفق ہیں کہ میگنیشیئم اور زنگ بدن میں جاکر سیروٹونن کی مقدار بڑھاتے ہیں۔ سیروٹونِن کو خوشی کا نیوروٹرانسمیٹر بھی کہا جاتا ہے۔ اس طرح کدو کے بیج کھانے سے صحت بہتر رہتی ہے اور دل و دماغ کو سکون ملتا ہے۔

مشروم

کھمبیاں اور مشروم اب پاکستان میں بھی دستیاب ہیں اور دماغی قوت کے لیے ان کی اہمیت سائنس سے بھی ثابت ہوچکی ہے۔ مشروم میں وٹامن بی کی غیرمعمولی مقدار موجود ہوتی ہے جو دماغ تک براہِ راست توانائی پہنچاتی ہیں۔ اس طرح دماغ بہتر طور پر کام کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہمارے احساس اور مزاج کو بہتر بنانے میں مشروم کی خاص اہمیت ہے۔ اس میں موجود دیگر اجزا ڈپریشن سے لڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ مشروم کو آملیٹ، سلاد اور دیگر سالن کے ساتھ کھایا جاسکتا ہے۔

ایوا کیڈو

مگرناشپتی یا ایواکیڈو کو پہلے ہی سپر فوڈ قرار دیا جاچکا ہے۔ اس میں تمام اقسام کے امائنو ایسڈ دریافت ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایوا کیڈو ڈپریشن کے لیے بھی اکثیر ہے۔
پاکستان میں بھی دستیاب ایوا کیڈو وٹامن ای اور اومیگا 9 فیٹی ایسڈ کی بھرپور مقدار پائی جاتی ہے۔ اس سے پورے دماغ کی مجموعی اکتسابی صلاحیت بھی بہتر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایواکیڈو کو موڈ بہتر رکھنے کے لیے بہت اہم قرار دیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس دریافت کرنے والی خاتون کون تھیں

کورونا وائرس دریافت کرنے والی خاتون کون تھیں

سکاٹ لینڈ: کورونا وائرس کو سب سے پہلے سکاٹ لینڈ کی ایک خاتون نے دریافت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے