ملا اختر منصور نے اپنی جعلی شناخت استعمال کر کے جائیدادیں خریدی

ملا اختر منصور نے اپنی جعلی شناخت استعمال کر کے جائیدادیں خریدی

کراچی: ایف آئی اے نے ملا منصور عرف محمد ولی عرف گل محمد، اختر محمد اور عمار کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کےسیکشن 11 ایچ، پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 420، 468 اور 471 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا

یہ انکشاف گزشتہ برس جولائی میں افغان طالبان کے رہنما اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے جعلی شناختوں کے ذڑیعے جائیداد کی خریداری سے مبینہ فنڈ اکٹھا کرنے سے متعلق کیس کی تحقیقات میں اے ٹی سی 2 میں جمع کروائی گئی ایف آئی اے کی رپورٹ میں سامنے آیا تھا۔
جنوری سے عدالت کی جانب سے تفتیشی افسر کو یہ ہدایات کی گئی تھیں کہ کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 87 اور 88 کے تحت ملا منصور اور اس کے 2 مبینہ مفرور ساتھیوں اختر محمد اور عمار کی جائیدادوں کو منسلک کرنے یا (ضبط) کرے۔
24 اپریل کو عدالت نے تفتیشی افسر کی جانب سے ایف آئی اے کی جانب سے شناخت کی گئی جائیدادوں کی کی نیلامی کا عمل مکمل کرنے کے حکم پر رپورٹ جمع کروانے بعد ناظر (عدالتی عہدیدار) کو ملا منصور کی جائیداد قبضے میں لینے کا حکم دیا تھا۔
عدالت نے حکم دیا تھا کہ ان جائیدادوں کو نیلام کیا جائے اور اس حوالے سے اخبارات میں اشتہارات بھی شائع کروائے جائیں۔
یہ معاملہ اے ٹی سی 2 کے جج کے سامنے آیا تو عدالتی ناظر نے عدالت کی جانب سے ملا اختر منصور کی جائیداد کو تحویل میں لینے سے متعلق رپورٹ جمع کروائی۔
جس پر جج نے آئندہ سماعت میں نیلامی کا اشہتار شائع ہونے سے متعلق رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی۔
اس کے ساتھ ہی جج نے تفتیشی افسر رحمت اللہ ڈومکی کی جانب سے کیس کی سماعت آئندہ ماہ کرنے کی درخواست منظور کرتے ہوئے 11جون سے سماعت مقرر کردی۔
افغان طالبان کے رہنما پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر جعلی شناخت پر 5 جائیدادیں خریدی تھیں۔
25 جولائی 2019 کو جمع کی گئی چارج شیٹ کے مطابق ملا عمر کے بعد طالبان سربراہ بننے والے ملا منصور پاک ایران سرحد پر 21 مئی 2016 کو ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔
انکوائری کے دوران یہ معلوم ہوا کہ ملزم ملا اختر منصور نے محمد ولی اور گل محمد کے نام سے جائیدادیں خریدی تھیں۔
تحقیقات میں یہ بھی کہا گیا کہ ملا منصور نے کراچی میں اسکیم 33 کے علاقے گلزار ہجری میں قائم اپارٹمنٹ بسم اللہ ٹیرس میں 14 لاکھ کا فلیٹ خریدا تھا۔
چارج شیٹ میں کہا گیا کہ ایک اور فلیٹ (بی-6-3) عمار ٹاور، شہید ملت روڈ، کراچی میں 19 جولائی 2011 کو 36 لاکھ 20 ہزار کا فلیٹ، شہید ملت روٖ پر گلستان انیس میرج ہال کے پاس سمایا ریزیڈنسی میں فلیٹ نمبر 801، ایک کروڑ 73 لاکھ روپے کا 15 ستمبر 2014 کو خریدا تھا۔
مزید کہا گیا کہ 441.67 مربع گز کا پلاٹ (بی 65، سیکٹر ڈبلیو ، سب سیکٹر III ، گلشن معمار ، کے ڈی اے سکیم 45، کراچی) ملا منصور نے یکم دسمبر 2009 کو 54 لاکھ روپے کا خریدا تھا اور یہ پراپرٹی گل محمد کے نام پر رجسٹرڈ تھی۔
’بیچنے والے ارشاد مظہر اور خریدار گل محمد کے مابین کی گئی فروخت/خریداری کے معاہدے کے مطابق، پلاٹ کی قیمت 54 لاکھ روپے کی اصل قیمت کے بجائے 4 لاکھ 86 ہزار 500 روپے دکھائی گئی‘۔
اس میں ایک مکان (A-56 ، سیکٹر زیڈ ، سب سیکٹر-V ، گلشنِ معمار ، کے ڈی اے سکیم 45 ، کراچی) بھی درج تھا جسے ملا منصور نے 29 نومبر 2007 کو 4.7 ملین میں خریدا تھا۔ پراپرٹی گل محمد کے نام پر بھی رجسٹرڈ تھی، جس نے بعد میں ملا منصور کے ایک اور فرنٹ مین اختر محمد کے نام پر ملکیت منتقل کردی۔
اس میں ایک مکان (اے-56، سیکٹر زیڈ، سب سیکٹر-5، گلشنِ معمار، کے ڈی اے اسکیم 45، کراچی) بھی درج تھا جسے ملا منصور نے 29 نومبر 2007 کو 47 لاکھ میں خریدا تھا۔
پراپرٹی گل محمد کے نام پر رجسٹرڈ تھی جس نے بعد میں ملا منصور کے ایک اور فرنٹ مین اختر محمد کے نام پر منتقل کردی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

مذہبی و سیاسی جماعتوں کے جھنڈے اور وال چاکنگز ختم کرنا شروع

مذہبی و سیاسی جماعتوں کے جھنڈے اور وال چاکنگز ختم کرنا شروع

کراچی: ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ویسٹ عاصم خان قائمخانی کا کہنا ہے کہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے