گلگت بلتستان حکومت کی 5 سالہ مدت جون کے آخری ہفتے میں ختم ہوجائے گی

گلگت بلتستان حکومت کی 5 سالہ مدت جون کے آخری ہفتے میں ختم ہوجائے گی

اسلام آباد: چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ’فریقین کو سننے کے بعد ہم نے متفقہ طور پر وفاقی حکومت کی درخواست منظور کرلی ہے جس کی وجوہات بعد میں ریکارڈ کی جائیں گی

عدالت میں اٹارنی جنرل خالد محمود خان نے واضح کیا کہ قانون میں ترمیم صداری حکم کے نٖفاذ سے کی جائے گی۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حیثیت سے متعلق دیر پٹیشنز مثلاً وفاقی حکومت کے خلاف ایک توہین عدالت کی درخواست پر عید کی چھٹیوں کے بعد سماعت کرے گی۔
ترامیم پیش کرنے سے قبل اٹارنی جنرل سے وضاحت کی کہ حکومت کو سپریم کورٹ کے 17 جنوری 2019 کے فـیصلے پر عملدرآمد سے قبل علاقائی صورتحال کا جائزہ لینا پڑا۔
فیصلے کے مطابق وفاقی حکومت مطلوبہ ترامیم کے لیے گلگت بلتستان گورننس ریفامرز 2019 کو ایک بل کے ذریعے پارلیمان میں پیش کرنے کی پابند ہے۔
گلگت بلتستان گورننس ریفامرز 2019 کی عدم موجودگی میں گلگت بلتستان آرڈر اب بھی نافذالعمل ہے لیکن اس آرڈر میں ایسی کوئی دفعہ شامل نہیں جس کے تحت قانون ساز اسمبلی کی مدت ختم ہونے کے بعد قائم مقام حکومت قائم کی جائے۔
یہ طریقہ کار سپریم کورٹ کے حکم کے زریعے گلگت بلتستان گورننس ریفارمز 2019 کی دفعہ 56(5) میں ہے۔
چنانچہ وفاقی حکومت صدارتی حکم کے ذریعے دفعہ 56(5) کو 2018 کے حکم نامے میں شامل کرکے الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت علاقے میں عام انتخابات کرواسکے گی۔
وفاقی حکومت نے اپنی درخواست میں سپریم کورٹ سے گلگت بلتستان آرڈر2018 میں ضروری ترمیم کرنے کی اجازت مانگی تھی تا کہ اصلاحات کے نفاذ سے قبل قائم مقام حکومت تشکیل اور جی بی کی قانون ساز اسمبلی کے لیے انتخابات کروائے جاسکیں۔
درخواست میں اس علاقے میں انتخابی عمل جاری رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کے لیے الیکشن ایکٹ 2017 اور ا کے تحت قواعد و ضوابط اختیار کرنے کی بھی اجازت مانگی گئی تھی۔
درخواست میں واضح کیا گیا تھا کہ حکومت گلگت بلتستان کی مدت جون میں ختم ہورہی ہے اس لیے انتخابات کروانے کے لیے قانونی طریقہ کار فوری طور پر فراہم کرنے کی ضرورت ہے جس میں عبوری حکومت کا قیام بھی شامل ہے۔کومت کا قیام بھی شامل ہے۔
سماعت میں گلگت بلتستان چیف کورٹ بار ایسوسی ایشن اور بار کونسل کی نمائندگی کرنے والے وکیل سلمان اکرم راجا نے وفاقی حکومت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ شفایت کی روح اور آئین پاکستان کے خلاف ہے۔

یہ بھی پڑھیں

میٹروپولیٹن کارپوریشن(کے ایم سی) کے گھوسٹ ملازمین کے نام پر 5 ارب روپے کھا رہا تھا

میٹروپولیٹن کارپوریشن(کے ایم سی) کے گھوسٹ ملازمین کے نام پر 5 ارب روپے کھا رہا تھا

اسلام آباد: چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے