سیاسی و سرکاری سرپرستی میں قبضہ مافیا سندھ کی ہزاروں سال پُرانی تاریخ مٹانے میں سرگرم

سیاسی و سرکاری سرپرستی میں قبضہ مافیا سندھ کی ہزاروں سال پُرانی تاریخ مٹانے میں سرگرم

سندھ:نسانی تاریخ کی کوئی کتاب وادی سندھ کی تہذیب اور اس کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں ہوتی مگر بدقسمتی سے اہل سندھ اس کی اہمیت سے واقف نہیں

سندھ کا شمار دنیا کی خوشحال، ترقی یافتہ اور عظیم ترین تہذیب رکھنے والوں میں کیا جاتا ہے جس کا اظہار بین الاقوامی تاریخ دان ببانگ دہل کرتے نظر آتے ہیں۔ سندھ ہمیشہ سے ہی ماہرین آثار قدیمہ اور محققین کی توجہ کا مرکز رہا ہے مگر سیاسی و سرکاری سرپرستی میں قبضہ مافیا ہر گزرتے دن کے ساتھ سندھ کی ہزاروں سال پُرانی تاریخ مٹانے میں سرگرم ہے؛ اور اب تو اس بہتی گنگا میں سندھ پولیس نے بھی ہاتھ دھونا شروع کردیئے ہیں۔
سیہون میں آثار قدیمہ کے ریسٹ ہاؤس، میوزیم اور کینٹین پر پولیس نے قبضہ کیا ہوا ہے تو وہ پولیس کس طرح دوسروں لوگوں سے قبضہ کی ہوئی جگہ واگزار کراسکتی ہے؟
محکمہ آثار قدیمہ کے افسران کی جانب سے متعدد خطوط لکھے جانے کے باوجود ابھی تک قبضہ مافیا براجمان ہے۔ گزشتہ دنوں سندھ کے نامور صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر سیہون شریف جانے کا اتفاق ہوا۔ اس بار سیہون سے جڑے پرانے قلعے کو دیکھنے کا ارادہ تھا۔ لکھنے کا مقصد اعلی حکام کی توجہ تاریخی مقامات پر قبضہ مافیا کی طرف مبذول کرانا ہے کہ سیہون قلعے پر قائم 125سال پرانی عمارت جو محکمہ آثار قدیمہ کی ملکیت ہے، اس عمارت کو میوزیم بنانے کےلیے مرمت کا کام بھی کرایا گیا تھا مگر اب اس عمارت پر ایک پولیس آفیسر نے قبضہ کیا ہوا ہے۔
عمارت میں میوزیم بنانے کا مقصد اس قلعے پر تحقیق کے واسطے آنے والوں کےلیے سہولت پیدا کرنا تھا جو اب سندھ پولیس کے آفیسر کی رہائش گاہ بن چکا ہے۔
دور دراز علاقوں میں قومی ورثے کو بھی اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔ ہمارے معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ قومی ورثے کو بچانا ایک عیاشی ہے اور پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک یہ لگژری برداشت نہیں کرسکتا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ واسی تاریخی مقامات کی حیثیت کو سمجھیں کیونکہ قومی ورثے کی بحالی اور مناسب سہولیات مہیا کرکے ہی ہم سندھ میں سیاحت کو فروغ دے سکتے ہیں جس سے مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے اور سندھ کے ساتھ ساتھ وطن عزیز کا مثبت چہرہ بھی دنیا کے سامنے آئے گا۔

یہ بھی پڑھیں

کراچی میں کئی وفاقی رہائشی کالونیاں مسائل کا گڑھ بن گئی

کراچی میں کئی وفاقی رہائشی کالونیاں مسائل کا گڑھ بن گئی

کراچی: وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے زیرانتظام کراچی میں کئی وفاقی رہائشی کالونیاں ہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے