منتیں کی کم از کم ان کی نبض دیکھ لیں بلڈ پریشر اور ای سی جی ہی کرلیں لیکن انہوں نے ہماری بات نہیں سنی

منتیں کی کم از کم ان کی نبض دیکھ لیں بلڈ پریشر اور ای سی جی ہی کرلیں لیکن انہوں نے ہماری بات نہیں سنی

کراچی: لاک ڈاؤن کے باعث ہر جگہ رکاوٹیں کھڑی تھیں جس کے بعد ہم مزید 2 ہسپتالوں میں لے کر گئے اور آخر کار خالی ہاتھ گھر لوٹ آئے

محمد سعید نے بتایا کہ 2 روز بعد ان کے گھر والے ایک معالج قلب کا اپائنمنٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے جنہوں نے کہا کہ مریض کو فوری طور پر عارضہ قلب کی سہولیات والے ہسپتال میں داخل کروایا جائے۔
تاہم اہلِ خانہ اتنے خوش قسمت ثابت نہیں ہوئے کہ انہیں کسی نجی یا سرکاری ہسپتال میں داخل کرواسکتے جنہیں علاج کی اشد ضرورت تھی، چنانچہ انہیں داخل کرنے سے منع کردیا گیا اور کہا کہ حالات معمول پر آنے کا انتظار کریں۔
محمد سعید کے مطابق گزشتہ ہفتے انہیں دل کا دورہ پڑا اور وہ انتقال کر گئے، اہلخانہ صدمے میں ہیں اور علاج نہ کروانے کے سبب اپنے آپ کو قصوروار سمجھتے ہیں لیکن یہ ان کی غلطی نہیں یہ نظام ہے جس نے ہم سب کو ناکام کردیا ہے۔
اہلِ خانہ پر گزری وہ صوبائی نظامِ صحت کی عکاسی کرتی ہے جس کی صلاحیتوں میں کورونا وائرس کے باعث اضافہ ہونے کی توقع تھی لیکن اس کے بجائے وہ تیزی سے گر رہا ہے اور قابلِ علاج لاکھوں مریض کو علاج میسر نہیں۔
گزشتہ ایک ماہ کے دوران درجنوں شدید بیمار افراد درکار طبی مشورہ اور سہولت نہ ملنے کے سبب انتقال کر گئے جس سے حکام اور طبی ماہرین بھی اتفاق کرتے ہیں۔
شہر میں کووِڈ 19 کےمریضوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ایک اور بحران سر اٹھا رہا ہے اور کورونا کے سوا دیگر بیماریوں کے لاکھوں مریضوں کو علاج میسر نہیں کیوں کہ زیادہ تر سرکاری اور نجی ہسپتالوں نے اپنے دروازے ان کے لیے بند کردیے ہیں حتیٰ کہ انہیں شدید ضرورت میں داخل نہیں کیا جارہا اور سرجری کی اشد ضرورت ہونے کے باجود وہ معطل کردی گئیں ہیں۔
کراچی کے ہر علاقے میں نظام صحت تیزی سے سکڑ رہا ہے اور ہر ضلع میں موجود درجنوں ہسپتالوں میں لوگوں کا علاج کرنے سے انکار کیا جارہا ہے۔
سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن (ایس ایچ سی سی) مطمئن ہے اور اسے شہر بھر کے ہسپتالوں میں ’معاملات معمول کے مطابق‘ نظر آتے ہیں۔
ایس ایچ سی سی کے سربراہ ڈاکٹر منہاج اے قدوائی کا کہنا تھاکہ ’ہم نے نجی ہسپتالوں کو او پی ڈیز بند کرنے کی تجویز دی ہے لیکن دیگر سہولیات معمول کے مطابق فراہم کی جارہی ہیں اور اس طرح کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی کہ ہسپتال نے کسی مریض کا علاج یا داخل کرنے سے انکار کردیا ہو، اگر ایسا کسی ہسپتال نے کیا ہے تو اسے نہیں کرنا چاہیئے تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ لیکن ہم نے اس طرح کی کوئی چیز نہیں دیکھی اور اگر کسی کو کوئی شکایت ہے تو اسے چاہیئے کہ ہم سے رجوع کرے اور ہم قواعد کے مطابق کام کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں

سمندر کی نچلی سطح کے بادلوں کی وجہ سے ہلکی بارش ہوسکتی ہے

سمندر کی نچلی سطح کے بادلوں کی وجہ سے ہلکی بارش ہوسکتی ہے

کراچی: شہر میں رواں ماہ اوراکتوبر میں سمندر کی نچلی سطح کے بادلوں کی وجہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے