ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ کا 82 واں یوم وفات

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ کا 82 واں یوم وفات

لاہور: شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ کا 82 واں یوم وفات آج ملی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے، ان کی روح کے ایصالِ ثواب کیلیے مساجد اور گھروں میں قرآن خوانی ہو گی

مفکر پاکستان شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ کا 82 واں یوم وفات آج (منگل) ملی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔
البتہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے تقریبات نہ ہو سکیں گی
علامہ محمد اقبالؒ 21 اپریل 1938 کو وفات پا گئے تھے جب کہ تحریک پاکستان اور مسلمانوں کیلیے ان کی خدمات قابل قدر ہیں۔
انگریزی اور فلسفہ گورنمنٹ کالج میں پڑھتے اور عربی پڑھنے اورینٹل کالج جاتے جہاں مولانا فیض الحسن سہارنپوری ایسے بے مثال استاد تشریف رکھتے تھے۔ اس وقت تک اورینٹل کالج لاہور گورنمنٹ کالج ہی کی عمارت کے ایک حصّے میں قائم تھا اور دونوں کالجوں کے درمیان بعض مضامین کے سلسلے میں باہمی تعاون اور اشتراک کا سلسلہ جاری تھا۔ ١٨٩٨ء میں اقبال نے بی اے پاس کیا اور ایم اے (فلسفہ) میں داخلہ لے لیا۔ یہاں پروفیسر ٹی ڈبلیوآرنلڈ کا تعلق میسّر آیا۔ جنھوں نے آگے چل کر اقبال کی علمی اور فکری زندگی کا ایک حتمی رُخ متعین کر دیا۔
علامہ اقبال اعلی تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے اور کیمبرج یونیورسٹی ٹرنٹی کالج میں داخلہ لے لیا۔ چونکہ کالج میں ریسرچ اسکالر کی حیثیت سے لیے گئے تھے اس لیے ان کے لیے عام طالب علموں کی طرح ہوسٹل میں رہنے کی پابندی نہ تھی۔ قیام کا بندوبست کالج سے باہر کیا۔ ابھی یہاں آئے ہوئے ایک مہینے سے کچھ اوپر ہوا تھا کہ بیرسٹری کے لیے لنکنز اِن میں داخلہ لے لیا۔ اور پروفیسر براؤن جیسے فاضل اساتذہ سے رہنمائی حاصل کی۔ بعد میں آپ جرمنی چلے گئے جہاں میونخ یونیورسٹی سے آپ نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
علامہ اقبال مولانا رومی کو اپنا روحانی استاد مانتے تھے اور انہیں پیر رومی کے نام سے یاد کرتے۔
اردو اور ہندی بولنے والے لوگ محمد اقبال کو شاعر مشرق کے طور پہ جانتے ہیں۔ محمد اقبال حساس دل و دماغ کے مالک تھے آپ کی شاعری زندہ شاعری ہے جو ہمیشہ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے مشعل راہ بنی رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ کلام اقبال دنیا کے ہر حصے میں پڑھا جاتا ہے اور مسلمانان برصغیر اسے بڑی عقیدت کے ساتھ زیر مطالعہ رکھتے اور ان کے فلسفے کو سمجھتے ہیں۔ اقبال نے نئی نسل میں انقلابی روح پھونکی اور اسلامی عظمت کو اجاگر کیا۔ ان کے کئی کتب کے انگریزی، جرمنی، فرانسیسی، چینی، جاپانی اور دوسری زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔ جس سے بیرون ملک بھی لوگ آپ کے متعرف ہیں۔ بلامبالغہ علامہ اقبال ایک عظیم مفکر مانے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

سلمان شہباز کے ملازمین کے بینک اکاؤنٹ میں بھی 9.5 ارب روپے کا انکشاف

سلمان شہباز کے ملازمین کے بینک اکاؤنٹ میں بھی 9.5 ارب روپے کا انکشاف

لاہور: ملازمین رمضان شوگر مل اور العریبیہ شوگر مل میں کام کرتے ہیں ایف آئی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے