نیتن یاہو کے منتخب وزیر اعظم کی مدت مارچ 2019 میں مکمل ہوگئی

نیتن یاہو کے منتخب وزیر اعظم کی مدت مارچ 2019 میں مکمل ہوگئی

اسرائیل: وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اگرچہ اس وقت منتخب وزیر اعظم نہیں تاہم وہاں کی قوانین کے مطابق جب تک منتخب وزیر اعظم عہدہ نہیں سنبھالتا، تب تک سابق وزیر اعظم ہی وزارت عظمیٰ کا ذمہ داریاں نبھا سکتا ہے

نیتن یاہو کے منتخب وزیر اعظم کی مدت مارچ 2019 میں مکمل ہوگئی تھی اور اپریل 2019 میں اسرائیل میں انتخابات بھی کرائے گئے تھے مگر انتخابات میں کسی بھی سیاسی جماعت نے واضح اکثریت حاصل نہیں کی تھی۔
سیاسی جماعتوں کی جانب سے اتحادی حکومت بنائے جانے پر اتفاق نہ کیے جانے کے بعد ستمبر 2019 میں ایک ہی سال میں دوبارہ انتخابات کرائے گئے مگر ان انتخابات میں بھی کسی بھی جماعت نے واضح اکثریت حاصل نہ کی تو ملک میں تیسری بار انتخابات کرانے کا اعلان کیا گیا۔
یوں مارچ 2020 میں ڈیڑھ سال کے دوران اسرائیل میں تیسری بار انتخابات کرائے گئے مگر اس بار بھی کسی بھی سیاسی جماعت نے واضح اکثریت حاصل نہ کی اور پھر اوپر سے کورونا کی وبا آنے کی وجہ سے منتخب حکومت بنانے کا عمل تاحال مکمل نہیں ہوسکا۔
نیتن یاہو اور ان کے سب سے بڑے حریف سابق آرمی چیف جنرل بینی گینٹز کی جماعت ’بلیو اینڈ وائٹ‘ جلد ہی اتحادی حکومت کے لیے معاملات طے کرلیں گے لیکن اس حوالے سے اب بھی مذکرات ابتدائی مراحل میں ہے اور ان کی اتحادی حکومت بنائے جانے کے حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔
اگر نیتن یاہو کسی بھی طرح حریف جماعت سے اتحاد کرکے حکومت بنا کر دوبارہ وزیر اعظم بن جاتے ہیں تو وہ پانچویں بار منتخب وزیر اعظم بن جائیں گے۔
لیکن جب تک وہ منتخب وزیر اعظم نہیں بنتے یا کوئی دوسرا شخص وزیر اعظم کا عہدہ نہیں سنبھالتا تب تک نیتن یاہو ہی وزارت عظمیٰ کی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔
انتخابات ہوجانے اور کسی بھی سیاسی جماعت میں حکومت کے لیے اتحاد کی باتیں نہ کیے جانے اور پھر اوپر سے کورونا وائرس آنے پر اب اسرائیل کے سیاسی حریفوں نے نیتن یاہو پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کی وبا کو سیاسی و حکومت کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی کے باوجود ملک کے سب سے بڑے شہر تل ابیب میں کم از کم 5 ہزار افراد نے وزیر اعظم کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں شرکت کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ مذکورہ مظاہرے کا مقصد حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے دوران مناسب اقدامات نہ کرنے اور لوگوں کو ریلی فراہم نہ کرنے کے خلاف مظاہرہ تھا، تاہم اس میں نیتن یاہو کی کرپشن اور وبا کو سیاست کے لیے استعمال کرنے کے خلاف بھی نعریبازی کی گئی۔
مظاہرے کے منتظمین سیاسی جماعت یش عتید کے رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ دراصل نیتن یاہو کورونا وائرس کی وبا کو اپنے اختیارات بڑھانے، سیاسی مقاصد حاصل کرنے اور خود کو کرپشن کی کارروائی سے دور رکھنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو پر عدالتوں میں چلنے والے کرپشن کیسز کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ دراصل کورونا کی وبا کو وزیر اعظم اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے خود کو محفوظ بنا رہے ہیں۔
تل ابیب میں نیتن یاہو کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں 5 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی، تاہم اس دوران مظاہرین نے ایک دوسرے سے فاصلے کو یقینی بنایا۔
نیتن یاہو کی جانب سے عام افراد اور چھوٹے کاروباری حضرات کو ریلیف فراہم نہ کیے جانے کے خلاف تل ابیب، یروشلم اور حائفہ جیسے شہروں میں بیک وقت مظاہرے کیے گئے۔
19 اپریل کو وزیر اعظم کے خلاف ہونے والے مظاہروں سے قبل ان کے خلاف 17 اپریل کو بھی تل ابیب میں مظاہرے کیے گئے تھے جب کہ گزشتہ ہفتے ان کے خلاف دوسرے شہروں میں بھی چھوٹے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔
نیتن یاہو کے خلاف ایک ایسے وقت میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا ہے جب کہ اسرائیل میں کوررونا سے متاثر افراد اور ہلاکتوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے جب کہ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن نافذ کیے جانے کےباوجود کسی کے لیے کسی ریلیف کا اعلان نہیں کیا گیا۔
نیتن یاہو کے خلاف ان ہی الزامات کے تحت آئندہ ماہ مئی میں اسرائیلی عدالتوں میں ٹرائل ہونا تھا، تاہم کورونا وائرس کی وجہ سے عدالتوں کو بند کیے جانے کی وجہ سے اب یہ ممکن نہیں اور اگر وہ وزیر اعظم بن جاتے ہیں تو ان کے خلاف ٹرائل بھی شروع نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

ریاست جارجیا کے حراستی مراکز میں قید خواتین کے ’رحم مادر‘ نکالے جانے کا اسکینڈل

ریاست جارجیا کے حراستی مراکز میں قید خواتین کے ’رحم مادر‘ نکالے جانے کا اسکینڈل

امریکا: اسکینڈل اس وقت سامنے آیا جب ریاست جارجیا کی ارون کاؤنٹی کے ایک حراستی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے