لاک ڈاؤن کے خلاف امریکا کی متعدد ریاستوں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر مظاہرے کر رہے ہیں

لاک ڈاؤن کے خلاف امریکا کی متعدد ریاستوں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر مظاہرے کر رہے ہیں

برازیل: صدر جو کہ ملک و ریاست کے تمام حکومتی معاملات کے سربراہ ہیں وہ بھی اپنے ملک میں نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن اور لوگوں کو گھروں تک محدود رکھنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے

تقریبا تمام 26 ہی ریاستوں میں کورونا سے بچاؤ کے لیے جزوی لاک ڈاؤن نافذ ہے اور ریاستوں حکومتوں نے لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے کے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔
برازیل آبادی اور معیشت کے حوالے سے دنیا کے اہم ترین ممالک میں شامل ہوتا ہے اور وہاں پر گزشتہ ماہ مارچ کے آغاز سے ہی کورونا جیسی وبا سے بچنے کے لیے تفریحی و عوامی مقامات کو بھی بند کردیا گیا ہے۔
لاک ڈاؤن نافذ کیے جانے اور لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے کے احکامات جاری کرنے کے خلاف برازیل کے صدر جیئر بولسونارو پہلے دن سے ہی ناراض تھے اور وہ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ کورونا وائرس سے ڈر کر معمولات زندگی کو مفلوج نہیں کیا جا سکتا۔
صدر جیئر بولسونارو نے گزشتہ ماہ 25 مارچ کو کہا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باوجود برازیل کے عوام اور مقامی حکومتوں کو معمولات زندگی بحال رکھنے کی ضرورت ہے، وبا کے ڈر کی وجہ سے نوکریاں نہیں چھوڑی جانی چاہئیں۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ کورونا وائرس برازیل میں آ چکا ہے اور وہ پھیلے گا اور یہ بھی سچ ہے کہ ہم اس کا مقابلہ بھی کریں گے اور اس سے بچنے کے لیے کوششیں بھی کر رہے ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم لاک ڈاؤن کردیں اور کاروبار کو ختم کردیں۔
برازیلی صدر ذاتی طور پر لاک ڈاؤن کے خلاف تھے، تاہم وہاں کے آئین کے مطابق ریاستی حکومتیں اور ریاستی گورنرز اپنی ریاستوں میں کسی طرح کے اقدامات اٹھانے کے لیے خود مختار ہوتے ہیں، اس لیے تقریبا تمام ہی ریاستوں نے کورونا سے بچنے کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کردیا تھا۔
لاک ڈاؤن کو نافذ رکھے جانے اور لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے کے ریاستی حکومتوں کے احکامات کے خلاف لوگوں نے مظاہرے کرنا شروع کردیے ہیں اور ایسے مظاہروں میں عام طور پر 500 سے زائد افراد ایک ساتھ شریک ہو رہے ہیں۔
برازیل کے دارالحکومت براسیلیا میں فوج کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے ہونے والے تقریبا 600 افراد کے مظاہرے میں صدر جیئر بولسونارو نے بھی شرکت کی اور وہ بھی دیگر مظاہرین کی طرح حفاظتی انتظامات کے بغیر ہی مظاہرے میں شریک ہوئے۔
فوجی ہیڈکوارٹر کے سامنے مظاہرے کرنے والے افراد کا مطالبہ تھا کہ فوج آگے بڑھ کر پارلیمینٹ کو تحلیل کرنے سمیت سپریم کورٹ کو بھی محدود کردے۔
لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے کے احکامات دینے کے خلاف مظاہرے کرنے والے افراد نے ہاتھوں میں فوج اور جیئر بولسونارو کی حمایت میں پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے۔
مظاہرین کے ہاتھوں میں جو پلے کارڈز تھے ان میں فوج کو ترغیب دی گئی تھی کہ وہ صدر جیئر بولسونارو کے ساتھ مل کر برازیل کے کانگریس کو تحلیل کرنے سمیت سپریم کورٹ کے اختیارات بھی منجمند کردیں۔
لاک ڈاؤن کے خلاف ہونے والے مذکورہ مظاہرے میں تقریبا 600 افراد نے شرکت کی جو کہ فیس ماسک اور کسی طرح کے حفاظتی سامان اور تدابیر کے بغیر ہی مظاہرے میں شریک ہوئے۔
مذکورہ مظاہرے میں صدر جیئر بولسونارو بھی حفاظتی اقدامات کیے بغیر ہی شریک ہوئے اور انہوں نے مظاہرین سے مختصر خطاب بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیں

صدر رجب طیب اردوان نے فرانس کے صدر ایمانیئول میکرون’دماغی معائنہ‘ کرانے کے لیے زور دیا ہے

صدر رجب طیب اردوان نے فرانس کے صدر ایمانیئول میکرون’دماغی معائنہ‘ کرانے کے لیے زور دیا ہے

استنبول: ترک صدر رجب طلب اردوان سے سخت ردعمل دیا تھا ہفتے کو کہا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے