اس بات پر توجہ دینی چاہیئے کہ لاک ڈاؤن کے باوجود کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ کیوں ہورہا ہے

اس بات پر توجہ دینی چاہیئے کہ لاک ڈاؤن کے باوجود کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ کیوں ہورہا ہے

’کراچی: مکمل لاک ڈاؤن کے نفاذ کا ایجنڈا اسوقت تک حاصل نہیں ہوسکتا اگر غریب کو راشن اس کے گھر کے دروازے پر نہ فراہم کیا جائے اور حکومت کو تجویز دی کہ اس سلسلے میں فلاحی تنظیموں اور یوٹیلیٹی سروسز کی مدد لی جائے

تاجروں اور علما پر زور دیا کہ قوم کے وسیع تر مفاد میں کاروبار کھولنے اور مساجد میں نماز کے اجتماعات کے حوالے سے اپنے فیصلوں پر نظرِ ثانی کریں۔
پروفیسر عظیم الدین نے ذاتی تحٖفظ کی اشیا (پی پی ای) کی فراہمی میں کمی کے بارے میں تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کس طرح اس کی وجہ سے صحت کی سہولیات فراہم کرنے والوں کو انفکیشن ہورہا ہے۔
پی پی ای کے مسئلے کی وجہ سے طبی عملے کے بہت سے اراکین متاثر ہوئے ہیں لیکن حکومت نے محفوظ پریکٹس اور پی پی ای کے استعمال کے حوالے سے کوئی ہدایات جاری نہیں کیں جو ان کے ساتھیوں میں وائرس کے پھیلاؤ کا ایک اور سبب ہے۔
نجی ہسپتالوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اکثریت اپنی ملازمین کو ضروری پی پی ایز فراہم نہیں کررہی۔
اس حوالے سے مصباح العزیز کا کہنا تھا کہ ’طبی سہولیات فراہم کرنے والوں کو خطرے میں ڈالنا سنگین غفلت ہے، اور سرکاری و نجی دونوں ہسپتالوں میں او پی ڈیز کو عملے کی ایس او پیز کے تحت تربیت یقینی بنائے بغیر نہیں کھولنا چاہیئے‘۔
مطالبات میں ہسپتالوں میں کام کرنے والے تمام ڈاکٹروں کی نوکریوں کا تحفظ اور ایکسپو سینٹر میں قائم کرد فیلڈ آئیسولیشن ہسپتال کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا شامل تھا۔

یہ بھی پڑھیں

کے الیکٹرک نے نیپرا کی عوامی سماعت کے بعد شہریوں کو مزید تنگ کرنا شروع کردیا

کے الیکٹرک نے نیپرا کی عوامی سماعت کے بعد شہریوں کو مزید تنگ کرنا شروع کردیا

کراچی: کے الیکٹرک نے شدید گرمی کے موسم میں بھی شہرکے متعدد علاقوں میں 3 …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے