بریگیڈیئر(ر) ڈاکٹر حافظ الدین احمد صدیقی کس طرح پی ایم ڈی سی کا رجسٹرار ہونے کا دعویٰ کرسکتے ہیں

بریگیڈیئر(ر) ڈاکٹر حافظ الدین احمد صدیقی کس طرح پی ایم ڈی سی کا رجسٹرار ہونے کا دعویٰ کرسکتے ہیں

اسلام آباد: ہائی کورٹ کی جانب سےبریگیڈیئر(ر) ڈاکٹر حافظ الدین احمد صدیقی کی بطور رجسٹرار بحالی کے خلاف وفاقی حکومت کی دائر درخواست پر محفوظ کردہ مختصر فیصلہ جسٹس اعجاز الاحسن نے پڑھ کر سنایا

اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ ہائی کورٹ نے اس حقیقت کے باجود بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر حافظ الدین احمد صدیقی کی بحالی کا فیصلہ سنایا کہ انہیں دوبارہ عہدے پر تعینات نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ جس قانون کے تحت ان کی تعیناتی ہوئی تھی وہ منسوخ ہوچکا اور اس کے خلاف اپیل بھی ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔
عدالت نے یہ بات اتارنی جنرل سے دریافت کی بریگیڈیئر(ر) ڈاکٹر حافظ الدین احمد صدیقی کس طرح پی ایم ڈی سی کا رجسٹرار ہونے کا دعویٰ کرسکتے ہیں جبکہ وہ قانون ہی منسوخ ہوچکا ہے جس کے تحت ان کی تعیناتی ہوئی تھی۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ کہ اس دعوے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں لہٰذا عدالت نے محسوس کیا کہ اس معاملے کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت نہیں۔
چنانچہ عدالت نے پٹیشن کو اپیل میں تبدیل کر کے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے 7 اپریل کو کیے گئے فیصلےکو کالعدم قرار دے دیا اور اس فیصلے کے تناظر میں ہائی کورٹ میں دائر توہین عدالت کی درخواست بھی خارج ہوگئی۔
تشکیل دی گئی 11 رکنی ایڈہاک کونسل کے صدر سپریم کورٹ کے سابق جج اعجاز افصل خان ہوں گے جبکہ دیگر اراکین میں اٹارنی جنرل پاکستان، وفاقی سیکریٹری صحت، پاکستان کی مسلح افواج کے سرجن جنرل، لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے وائس چانسلر، یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، لاہور کے وائس چانسلر، جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی، کراچی کے وائس چانسلر، خیبرمیڈیکل یونیورسٹی، پشاور کے وائس چانسلر، بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز، کوئٹہ کے وائس چانسلر، شہید، ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد کے وائس چانسلر، ڈی مونٹمورینسی کالج آف ڈینٹسری، لاہور کے پرنسپل شامل ہیں۔
عدالت نے حکم نامے میں ہدایت کی گئی کہ جتنی جلد ممکن ہو نوتشکیل شدہ کونسل کا اجلاس بلایا جائے اور اٹارنی جنرل کونسل کے صدر کی منظوری سے پہلے اجلاس کی تاریخ کریں۔
ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ کونسل کے صدر اراکین کی مشاورت سے کونسل کے رجسٹرار کا تقرر کریں گے۔
پی ایم ڈی سی کا تمام تر موجودہ ریکارڈ سیکریٹری صحت کے مجاز نمائندے کے حوالے کیا جائے۔
11 اپریل کو حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجسٹرار پی ایم ڈی سی کی بحالی کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
اپیل میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ پی ایم ڈی سی ختم کرنے سے متعلق آرڈیننس کو کالعدم قرار دے چکی ہے اور رجسٹرار کا تقرر اسی آرڈیننس کے تحت کی گئی تھی۔
حکومت نے اپیل میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ جب آرڈیننس کالعدم ہوگیا تو رجسٹرار کیسے عہدے پر رہ سکتے ہیں؟
وفاق نے اپیل پر رجسٹرار کے اعتراضات کے خلاف متفرق درخواست بھی دائر کی تھی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی توہین عدالت کی کارروائی بھی عدالت عظمیٰ میں چیلنج کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

طلحہ ہارون کو تاحکم ثانی امریکا کے حوالے کرنے سے روکنے کا حکم

طلحہ ہارون کو تاحکم ثانی امریکا کے حوالے کرنے سے روکنے کا حکم

اسلام آباد: نیویارک ٹائمز اسکوئر پر حملے کے مبینہ ملزم طلحہ ہارون کو امریکا کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے