دنیا کو معلوم کرنا پڑئ گا ابتدائی دنوں میں چین میں کیا ہوا

دنیا کو معلوم کرنا پڑے گا ابتدائی دنوں میں چین میں کیا ہوا

لندن: چین نے دعویٰ کیا تھا کہ کرونا وائرس امریکا کا بائیولوجیکل وار ہے جبکہ کچھ روز امریکی حکام نے بھی چین سے متعلق ایسا ہی دعویٰ کیا ہے کہ جس پر برطانیہ کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ چین کو کرونا کی بنیاد کے بارے میں بتانا پڑے گا

ساری دنیا خوفزدہ اور حیران کہ یہ خطرناک وائرس بالآخر آیا کہاں سے؟ آیا یہ وائرس قدرتی ہے یا پھر اسے لیب میں تیار کیا گیا ہے؟
ڈومینک راب کا کہنا ہے کہ چین کو وائرس کے پھیلاؤ پر سخت سوالوں کے جواب دینا ہوں گے، دنیا کو بھی معلوم کرنا پڑے گا کہ ابتدائی دنوں میں چین میں کیا ہوا۔
برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب کا کہنا تھا کہ وائرس کے ابتدائی دنوں کا گہرائی سے جائزہ لینا پڑے گا۔
کرونا وائرس کی جان لیوا وبا سے دنیا بھر میں اب تک 21 لاکھ 83 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ 1 لاکھ 46 ہزار سے زائد انسان دم توڑ چکے ہیں تاہم وائرس میں مبتلا افراد میں سے اب تک 5 لاکھ 52 ہزار 790 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

افغان جنگ کے خاتمے میں پاکستان کا اب پہلے سے زیادہ اہم کردار ہے

افغان جنگ کے خاتمے میں پاکستان کا اب پہلے سے زیادہ اہم کردار ہے

واشنگٹن: ولیم ای ٹوڈ، جنہیں رواں سال کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے