ہسپتالوں میں مردہ لائے جانے والے مریضوں اور شرح اموات میں اضافہ

ہسپتالوں میں مردہ لائے جانے والے مریضوں اور شرح اموات میں اضافہ

کراچی: سمیت سندھ بھر میں لاک ڈاؤن کے باعث اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں واضح کمی آئی ہے جبکہ ٹریفک حادثات کے واقعات بھی انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں

لیکن اسٹریٹ کرائمز اور ٹریفک حادثات میں نمایاں کمی کے باوجود کراچی کے ہسپتالوں خصوصاً جناح ہسپتال میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور روزانہ 15 سے 20 افراد کو مردہ حالت میں لایا جارہا ہے یا پھر وہ ہسپتال پہنچ کر دم توڑ جاتے ہیں۔
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر شہر قائد میں ہونے والی ان پراسرار اموات پر ڈاکٹرز اور عملے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی آج پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہر میں نامعلوم وجوہات کے سبب بڑھتی ہوئی اموات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ افراد کورونا وائرس کے مریض ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹر سیمی جمالی نے ان افراد کی کورونا وائرس کے سبب اموات کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیسٹنگ کے بغیر وائرس زدہ شخص کی جانچ ممکن نہیں۔
جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی نے نجی ٹی ویگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ سنددھ کے تحفظات بالکل بجا ہیں اور ان مریضوں کے حوالے سے مجھے بھی بہت تحفظات ہیں۔
اس وبا سے قبل ہمارے پاس 1600-1700 مریض یومیہ کے حساب سے ایمرجنسی میں آتے تھے لیکن اس وقت ان مریضوں کی تعداد آدھی ہو گئی ہے اور 700-800 سے زیادہ مریض نہیں آ رہے۔
انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں مردہ حالت میں لائے جانے والے مریضوں کی تعداد گزشتہ چند ہفتوں کے مقابلوں میں زیادہ ہے جبکہ ان مریضوں کی تعداد بھی بڑھی ہے جن کا ہسپتال آ کر انتقال ہو جاتا ہے جس پر ہمیں شدید تحفظات ہیں۔
ان میں سے کوئی بھی مریض ٹریفک حادثے یا گولی لگنے سے ہلاک یا زخمی نہیں ہوا جبکہ یہ مختلف امراض کے ساتھ ہسپتال میں لائے گئے جہاں وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔
یہ صرف ایک ہسپتال کی بات ہے لیکن دیگر ہسپتالوں کی صورتحال بھی کچھ اسی طرح کی ہے۔

ڈاکٹر سیمی جمالی نے کہا کہ جن لوگوں کو مردہ حالت میں لایا جاتا ہے تو اہلخانہ ان کا پوسٹ مارٹم کرنے کی اجازت نہیں دیتے اور ان کے گھر والے مریض کی جو علامات بتاتے ہیں تو اس بنیاد پر ہم فیصلہ کرتے ہیں کہ ممکنہ طور پر اس وجہ سے موت ہوئی ہو گی کیونکہ پوسٹ مارٹم نہ ہونے تک کوئی بھی نہیں بتا سکتا کہ مریض کی موت کیسے ہوئی تھی۔
ایکسرے سے یہ پتہ نہیں چل سکتا ہے کہ مریض کورونا وائرس کا شکار ہے یا نہیں اور کورونا کے مریض کی تشخیص ٹیسٹنگ کے ذریعے ہی ہو سکتی ہے، اس کے بغیر اگر علامات ہوں بھی تو ہم اس کو مصدقہ کورونا کا کیس نہیں کہہ سکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ مرنے والوں کی تعداد بڑھنا خطرناک ہے اور ہمیں تمام جگہ سے باقاعدہ ڈیٹا جمع کر کے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں اموات کیوں ہو رہی ہیں۔
ڈاکٹر سیمی جمالی نے اموات کی ایک وجہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج کل ٹرانسپورٹ نہیں چل رہی اور یہ غریب لوگوں کا ہسپتال ہے جس کی وجہ سے لوگ ٹرانسپورٹ ملنے پر ہی ہسپتال پہنچ سکتے ہیں لہٰذا بہت سے لوگوں کی اموات دیر سے ہسپتال پہنچنے اور بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہیں۔
گزشتہ 15 دن میں 121 لوگوں کو مردہ حالت میں لایا گیا اور 99 لوگوں کی ہسپتال کی ایمرجنسی میں اموات ہوئیں ان تمام افراد کی اموات کی وجوہات مختلف تھیں۔
فلاحی تنظیم ایدھی نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران گھروں اور مختلف ہسپتالوں سے 400 لاشیں منتقل کی ہیں۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے چیئرمین فیصل ایدھی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں میں شہر کراچی میں اموات کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ کورونا کے کیسز چھپا رہے ہیں۔
فیصل ایدھی نے مزید کہا کہ لوگ اپنے مرنے والے عزیزواقارب کی اطلاع دینے سے ڈر رہے ہیں لیکن ہمیں کورونا سے متاثرہ لوگوں کی میتوں کے لیے غسل کی ٹریننگ دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے سندھ حکومت سمیت مختلف متعلقہ اداروں سے ڈیٹا شیئر کیا ہے جسے وزیراعلیٰ سندھ نے بھی دکھا ہے اور آئندہ ایک دو دن میں مزید ڈیٹا اکٹھا کر کے صورتحال سے آگاہ کریں گے۔
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور اب تک ملک میں 6 ہزار سے زائد افرد وائرس کا شکار اور 113 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

میٹرک سائنس گروپ میں کامیابی کا تناسب 99.8 فیصد رہا

میٹرک سائنس گروپ میں کامیابی کا تناسب 99.8 فیصد رہا

کراچی: ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے تحت میٹرک سائنس گروپ کے نتائج کا اعلان کردیا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے